ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 102 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 102

اس لئے دوسرا جز اسلام کا مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ہے۔رسول کے معنی ہیں اللہ کا بھیجا ہوا۔تیسری بات اسلام کی یہ ہے سب مخلوق کو سکھ پہنچانے کی کوشش کریں یہ تو منہ سے کہنے اور ماننے کی باتیں ہیں اور پھر یہ بھی ماننا چا ہئے کہ خدا کے فرشتے حق ہیں۔نبیوں اور کتابوں پر ایمان لائے اور اس بات پر بھی جو کریں گے اس کا بدلہ پائیں گے اس کو جزا سزا کہتے ہیں۔ان باتوں کے ماننے کے بعد ضروری ہے کہ مسلمان نماز پڑھے اور روزہ کے دن ہوں تو روزہ رکھے۔جب ۵۲روپے ہوں تو چالیسواں حصہ زکوٰۃکے طور پر غریبوں اور مسکینوں کی مدد کے لئے دے۔پھر اور طاقت ہو تو مکہ معظمہ جا کر خدا کی بندگی کرے۔اصل اسلام دل سے مان لینے کا نام ہے۔جو سچے دل سے مان لے گا اور عمل بھی اس کے مطابق کرے گا۔پس تم دل سے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کو مان لو اس کے لئے نہ کسی رسم کی ضرورت ہے اور نہ کچھ اور۔البتہ نہا لینا چاہئے اس لئے کہ دعا مانگوکہ اللہ! اوپر سے تو ہم جسم کو دھوتے ہیں اندر سے تُودھو دے، اور کپڑے بدل لے اس لئے کہ اب سستی نہیں کروں گا۔اس کے بعد اس کا نام حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تجویز کے موافق عبد اللہ رکھا گیا۔( الحکم جلد ۶ نمبر۲۱،مورخہ۱۰؍جون ۱۹۰۲ء صفحہ۱،۲) ضرورت بیعت پر ایک لطیف مثال حضرت حکیم الامت نے ضرورت بیعت پر ایک لطیف مثال پیش کی جو ناظرین الحکم کی وسعت معلومات کے لئے ہم درج کرتے ہیں فرمایا۔ایک درخت کے ساتھ بہت سی شاخیں ہو تی ہیں اور ہر ایک شاخ کو بحصہ رسد خوراک ملتی ہے لیکن اگر ایک سبز شاخ کو کاٹ کر الگ پھینک دیا جائے اور پانی کے تالاب میں رکھا جائے تو کیا امید ہو سکتی ہے کہ وہ سبز رہ سکے؟ کبھی نہیں حالانکہ اسے پہلے سے زیادہ پانی میں رکھا گیا لیکن یہ پانی اس کے لئے مایہء حیات نہیں ہوسکتا۔اسی طرح پر جب تک ایک شخص امام کے ساتھ تعلق پیدا