واقفین نو

by Other Authors

Page 14 of 21

واقفین نو — Page 14

لگتی ہے تو کچھ حیران ہو جاتا ہے اور ایک المین کا شکار ہو جاتا ہے کہ پہلے اسے اسی بات پر داد ملتی تھی اب ڈائٹ کیوں ملتی ہے پہلے دن ہی سے نازیبا بات با حرکت کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔اس کے لئے بہتر ہے کہ بچہ کی منفی بات یا حرکت کا نوٹس ہی نہ لیا جائے۔بچہ خود بخود اس کو ترک کردے۔داد سے دہرائے گا پھر چھڑوانا قدرے مشکل ہوگا۔تقلیدی جبلت کے تحت اس دور میں سمجھ ماحول سے بہت زیادہ اکتساب اور اثر قبول کرتا ہے ، اسی دور میں قوت حافظ بے حد تیز ہوتی ہے۔عمر کے مقابلے میں قوت بھی زیادہ ہوتی ہے۔البتہ ذہنی بصیرت نہایت کم ہوتی ہے اس لئے اس کی صلاحیت قوت کو تقلیدی جبلت سے ہم آہنگ کر کے اس کے سامنے ہمیں مثالی کردار پیش کرنا ہوگا۔بڑے بہن بھائیوں اور دیگر اہل خانہ سب کو محتاط ہو کر عملی نموز پیش کرنا ہو ا۔ایک واقف تو کی برکت سے باقی اہل خانہ بھی تربیت کا عملی نمونہ پیش کرتے کرتے خود ہی تربیت یافتہ ہو جائیں گے۔درس کر معنوں میں سچہ ہماری تربیت کر ڈالے گا انشا اللہ ہوتے ہوتے اسلامی معاشرہ تشکیل پا جائے گا۔جھوٹ سے بچانے کے لئے یہ نکتہ ذہن میں رہے۔بچہ جھوٹ بلکہ ہر برائی سے نا آشنا ہوتا ہے۔بعض برائیاں جیلی تقاضوں کی تربیت ( TAME ) نہ کرنے کی صورت میں نمودار ہوتی ہیں۔لیکن بچوں کو جھوٹ بڑے سکھاتے ہیں اس کی تہہ میں براہ راست کوئی جبلت ملوث نہیں ہوتی۔اول تو یہ ہے کہ سزا کے خوف سے جھوٹ بولے گا۔دوم لالچ دینے سے وہ جھوٹ سیکھ جائے گا۔مثلاً بچھو سے کہا جائے کہ اگر تم نے یہ حرکت کی تو پانی ہوگی۔یا بابا آجائے گا۔کوئی مثبت کام کرمانے کے لئے ٹافی کھلونے یا اس کی من پسند چیز دینے کا لالچ دیا جائے تو وہ سزا سے بچنے کے لئے یا انعام حاصل کرنے کے لئے اپنی ذہانت کی بنا پر