واقفین نو

by Other Authors

Page 15 of 21

واقفین نو — Page 15

جھوٹ بولے گا جھوٹ کا فی الحال تعارف ہی نہ کروائیں اسے نا آشنا ہی رہنے دیں۔یاد رہے کہ جب بچہ بولنا سیکھتا ہے تو بہت سی باتیں آپ کو ایسی بنائے گا جو فرضی ہوں گی۔بے ربط اور حقیقت سے دور۔یہ جھوٹ نہیں۔یہ اس کا تصور جو نا پختہ ) ہوتا ہے۔وہ با آواز بلند سوچتا ہے جتنی فرضی اور بے سروپا باتیں سنائے گا اتنا ہی اس کا تصور وسیع اور زرخیز ہو گا۔ایسا بچہ بڑا ہو کر تخلیقی کام کرنے کا اہل ہوگا۔اس لے جھوٹ اور تصور میں فرق سمجھ لیں۔بچوں کو ایسی کہانیاں سنائی جائیں جن میں نیکی بدی پر فتح پاتی ہو۔برائی کا انجام برا ہو۔اس ضمن میں ایک اور بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ بچہ کو دوزخ کے تصور سے اس قدر نہ ڈرایا جائے کہ بڑے ہو کر بالکل تعمیر کا مجرم بن جائے۔بعض مائیں بات بات پر جہنم کی آگ اور دیگر تفصیلات سے اس کی چھوٹے بچوں کو ڈراتی رہتی ہیں۔ایسے بچوں میں مکنت پیدا ہو جاتی ہے۔خود اعتمادی کم ہو جاتی ہے۔نیکی بدی میں اتنا زیادہ امتیاز کرنے کی وجہ سے انہیں ڈرتا ہے کہ کہیں یہ بات بھی تو نہیں۔یہ انتہائی حالت سخت مضر اثرات شخصیت پر چھوڑتی ہے۔دوزخ کا تعارف اعتدال کی حد تک کر دیا جائے۔صیر کی عادت پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ فوری طور پر پستہ کی خواہش یا ضرورت پوری نہ کریں بلکہ اسے اُمید دلائیں کہ ابھی تھوڑی دیر کے بعد ثانی بسکٹ دیا جو بھی وہ مانگ رہا ہو) دیں گے ابھی ٹھہرو “ وقت میر کا اہم جز ہے۔چوتھا دور ۲ سال سے ۴۲ سال کی عمر تک جیب کہ پہلے کہا جا چکا ہے کہ بچہ تقلیدی جبلت کے تحت ہر وہ چیز سکھے گا جو دہ دیکھتا ہے۔نیز یہ کہ اس کی قوت حافظہ بہت تیز ہوتی۔اس میں غیر معمولی طاقت (وہ دعا