انسان کامل — Page 13
۱۳ وَمُونَةٍ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقة یعنی میری جائداد وارثوں میں تقسیم نہ ہوئی بلکہ وقف ہوگی۔میرے خلفاء کو چاہیے کہ میری ہیولوں کو سال بھر کا فریج دے کر اور میری جائداد کے منتظموں کی تنخواہ ادا کر کے بقیہ روپیہ مغرباء میں صدقہ دیدیا کرس، غرض ہمارا ممدوح کیسا عجیب عملی نمونہ دنیا کے دولتمندوں کے لئے چھوڑ گیا ہے کہ بیشک دولت سے فائدہ اٹھاؤ۔خود کھائے بیوی بچوں کو دو مگر اپنی جائز ضروریات سے زائد خزانوں اور دفینوں کی صورت میں نہ رکھو۔بلکہ اللہ کا مال اللہ کے غریب بندوں کو دید و قبر میں یہ مال ساتھ نہ جائے گا۔کھاؤ اور کھلاؤ پہنو اور بناؤ۔فائدہ اٹھاؤ اور فائدہ پہنچاؤ اور علاوہ اس کے غرباء کی حقارت مت کرو - اسراف نہ کرو۔اور امیر ہوکر فرمیوں سے محبت و شفقت سے پیش آؤ۔آج اگر دنیا کے سرمایہ پرست اس عملی نمونہ کو اسوہ بنالیں۔تو پھر کسی بالشویزم کی ضرورت رہتی ہے ؟ نہیں اور مرگز نہیں۔پھر آپ نے دنیا کے سامنے صرف اپنا نمونہ ہی پیش نہیں کیا۔بلکہ اپنی امت کے لئے قانون بنا دیا کہ ہر امیر اور دولتمن رآدمی اپنی آمدنی کا چالیسواں یا بیسواں حققہ اپنی قوم کے غرباء کیلئے لازما ا وا کرے۔اور اگر نہ دے۔تو حکومت جبراً اس سے لے سکتی ہے۔آنحضرت محکوموں کے لئے کامل نمونہ اس کے بعد ہم آپ کی کتاب حیات کو سرسری طور پر دیکھتے ہوئے معلوم کرتے ہیں کہ آپ ۱۳ سال کا عرصہ محکوم رہے۔اور محکوم بھی ظالموں بلکہ خونخوار درندوں کے ماتحت۔مگر کبھی آپ نے بغاوت نہ کی زیادہ ظلم دیکھا تو ساتھیوں کو کہا کہ یہاں سے خاموشی سے چلے جاؤ اور جاؤ تم کو خدا کے سپرد کیا۔جاؤ سمندروں کے پار عادل بادشاہوں کے سایہ کے نیچے رہو۔اگر کسی نے تنگ آکر کہا کہ حضور ہمیں اپنے حاکموں سے لڑنے کی اجازت دی جائے تو فرمایا۔اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كفوا ايدكم - یعنی نہیں نہیں اپنے ہاتھ روک لو۔خبردار اپنے حاکموں سے مت لڑنا۔پھر جب حاکموں کی سختی حد سے بڑھ گئی اور آپ کی جان کے لالے پڑ گئے۔تو آپ خاموشی سے اس حکومت کو چھوڑ کر چلے گئے۔مگر علم بغاوت بلند نہ کیا۔کیا یہ صبر اور استقلال اور اس قدر بردباری اور اتنی امن پسندی دنیا مں کوئی اور نظر بھی رکھتی ہے ؟ نہیں اور مرگز نہیں۔پس آپ تمام محکوموں اور رعایا کے لئے نمونہ ہیں :