انسان کامل

by Other Authors

Page 8 of 30

انسان کامل — Page 8

٨ عقلی معیار پر آنحضرت صاحہ کی کئی مطابقت اس کے بعد ہم مسلمانوں کو کہتے ہیں کہ اپنے پیشوا اور نبی کے حالات اور کارناموں کی فہرست پیش کرو۔وہ ایک ضخیم جلد ہمارے سامنے رکھ دیتے ہیں جب ہم اس کو کھول کر دیکھتے ہیں تو خدا کی قسم بغیر مبالغہ کے کہتا ہوں کہ اس کا ہر صفحہ سنہری حروف میں لکھا ہوا پاتا ہوں۔اس کی فہرست میں کسی جگہ صفر نہیں۔اور اس کے کسی نمبر میں عدم علم کا عذر نہیں۔بلکہ اس میں ! ایسی ایسی عجیب باتیں اور ایسے ایسے عظیم الشان کارنامے لکھے ہوئے ہیں کہ جن کی فہرست ہی نہیں بن سکتی اور جو کسی شمار کی حد میں نہیں آسکتے۔اور پھر پوچھو تو تمام کارنامے ۶۳ سال میں نہیں بلکہ ۲۳ سال میں نہیں بلکہ صرف مدنی زندگی کے دس سال میں دیکھائے گئے تھے۔کتاب کو دیکھتا ہوں تو یقین نہیں آتا کہ ایک شخص وہ بھی اتی وہ بھی غریب وہ بھی تیتیم پھر وہ بھی کہ ساری قوم اس کو چھوڑ چکی ہے اور خود اس کے گھر سے بھاگ کر ناروں میں چھپنا پڑتا ہے وہ یہ کارنامے دکھاتا ہے۔دل چاہتا ہے کہ کتاب پھینک کر انکار کر تروں اور کہ دوں کہ یہ تو ایک ناول ہے۔مگر کیا کروں واقعات کو کون رد کر سکتا ہے۔دوست بھی مانتے ہیں دشمن بھی اقرار کرتے ہیں، تاریخ بھی تسلیم کرتی ہے، دنیا کا جغرافیہ اور براعظموں کی پولیٹیکل تبدیلی سلطنتوں کا عروج و زوال یورپ کے پادری ، ہندوستان کے آریہ حتی کہ سوامی دیانند تک اقرار کرتے ہیں۔تو میں آنکھوں پرسی کیسے باندھ سکتا ہوں ؟ آخر مجبور ہو کر مانتا ہوں اور ماننا پڑتا ہے اور بغیر ماننے کے چارہ ہی نہیں۔میں تو بینا ہوں سورج تو اندھے کو بھی اپنا وجود منوا لیتا ہے۔یتیموں کیلئے کامل نمونہ اس لئے اب میں کتاب کو کھول ہوں۔وہاں سب سے پہلے لکھا ہوا ہے کہ حمل کے چھٹے مہینے والد فوت ہو گیا۔پڑھتے ہی محبیب کیفیت طاری ہوتی ہے اور خوشی میں اٹھ کھڑا ہوتا ہوں اور کہتا ہوں آؤ ! اے ایشیا و افراطقہ و یورپ اور نئے براعظموں کے کروڑوں یتیم بچو ! آؤ تمہارے سب غم دور ہو گئے۔سب مشکلات حل ہو گئیں۔تمہاری کٹھن منزل نزدیک آئی۔آئے دنیا کے یتیمیو ! تم نے تو کم پیش اپنے باپ کی شکل دیکھی ہوگی اور پھر محروم ہوئے ہوگئے۔کوئی ایک سال کے بعد کوئی دو سال کے بعد کوئی کسی وقت کوئی کسی وقت انگر دنیا کا سب سے بڑا یتیم ہم مسلمانوں کا یتیم اعظم تو جب دنیا میں آیا۔