انسان کامل

by Other Authors

Page 2 of 30

انسان کامل — Page 2

انسان کامل پسندیدہ امور سے بھری ہوئی ہو اور زندگی کے ہرشعبہیں اس کے افعال قاب تقلید مثال پیش کرتے ہوں۔۔کامل نمونہ دنیا میں صرف ایک شخص ہے རྐུ اس قطعی اور یقینی تمہید کے بعد ہم تمام دنیا میں یہ اعلان کرنا چاہتے ہیں کہ ہم نے بہت غور و فکر اور تلاش و جستجو کے بعد ایک ایسا شخص تلاش کر لیا ہے۔جسے بغیر کسی شک وشبہ کے اور بغیر کسی اد نے تامل و تشویش کے تمام دنیا کے لئے کامل نمونہ اور مکمل اسوہ کے طور پر پیش کر سکتے ہیں اور وہ شخص وہ ہے جس کے متعلق ہم نہیں بلکہ ہمارا خدا ہمیں کہتا ہے کہ لَقَدْ كَانَ لَكُمُ في رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةُ - یعنی اب دنیا کے لوگوں کے لئے اگر کوئی کام نمونہ ہوسکتا ہے تو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا وجود باجود اور آپ کی ذات بابرکات ہے۔اور چونکہ کاس نمونہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ تمام معائب سے پاک ہو۔اس لئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔فَقَد لبنت فيكم عمرًا مِنْ قَبْلِهِ اَفَلَا تَعْقِلُونَ۔یعنی اسے نبی تو تمام دنیا میں اعلان کر دے۔کہ نبوت و رسالت سے قبل کی زندگی بھی تمام معائب اور معاصی سے پاک ومترا ہے۔کوئی ہے جو میری زندگی میں کوئی نقطه چینی کر سکے ؟ اور چونکہ کامل نمونہ کے لئے علاوہ معائب سے پاک ہونے کے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ تمام اوصاف کاملہ کا جامع ہو۔اس لئے فرمایا۔انكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ یعنی تمام تعلقات انسانی جو دوستوں دشمنوں دور و نزدیک کے رشتہ داروں بیوی بچوں اپنوں بے گانوں اور نا واقعوں پرمشتمل ہیں۔اور تمام وہ فرائض ہو ایک انسان کے ذمہ ہوتے ہیں ان سب میں حضور علیہ اسلام کی ذات ستو وہ صفات کابل نمونہ اور بے نظیر اسوہ ہے : کامل نمونہ کی شناخت کا عقلی معیار قرآن مجید کے اس دعوی کو غیر ظاہب والے بغیر دلیل کے کس طرح تسلیم کر سکتے ہیں ؟ کیوں کہ عیسائی سی کو۔آریہ چار رشیوں کو دنیا کے لئے کامل نموز سمجھتے ہیں۔اس لئے ایک مسلمان کے لئے نہایت ضروری ہے کہ وہ یہ ثابت کرے کہ واقعہ میں رسول مقبول صلے اللہ علیہ وسلم زندگی کے ہر شعبہ میں شخص ہر قوم اور ہر ملک کے لئے نمونہ ہیں۔اور میں نے چونکہ یہی ثابت کرنے کے لئے اس مضمون کو شروع کیا ہے اس لئے میں کامل نمونہ کی پہچان کا ایک عقلی معیار پیش کرتاہوں جس پر جو شخص بھی پرکھا جا کر پورا اترے گا۔