انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 6

انقلاب حقیقی استعمال کر کے اس نے ایک گندی گالی دے دی، میں بھی چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سنت میں اس اخبار کا خریدار تھا اس لئے میں نے پہلے اسے چٹھی لکھی کہ تم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی ہے اس کا اپنے اخبار میں ازالہ کرو۔مگر اس چٹھی کا اُس نے جواب یہ دیا کہ میں نے کوئی بہتک نہیں کی میں نے تو صرف اگر کا لفظ استعمال کر کے ایک شرطی بات کہی تھی۔اس پر میں نے اسے ایک مضمون بھیجا جس میں ویدوں اور وید کے رشیوں کے متعلق میں نے اگر اگر کا لفظ استعمال کر کے کئی سخت الفاظ کہے کہ اگر تمہارے رشی کے متعلق کوئی یہ کہہ دے تو تم اسے کیا سمجھو گے، اگر ویدوں کے متعلق کوئی یہ کہہ دے تو تم اسے کیسا سمجھو گے اور نیچے میں نے لکھ دیا کہ آپ اس مضمون کو شائع کر دیں۔مضمون تو اُس نے کیا شائع کرنا تھا اُس کا دو صفحہ کا ایک خط آ گیا جو گالیوں سے بھرا ہو اتھا اور جس میں لکھا تھا کہ آپ مرزا صاحب کے لڑکے ہیں آپ کے متعلق میں یہ امید نہیں کرتا تھا کہ ایسے الفاظ ہمارے ویدوں اور رشیوں کے متعلق استعمال کریں گے۔میں نے اسے لکھا کہ میں نے تو کوئی گالی نہیں دی میں نے تو اگر کا لفظ استعمال کر کے بعض سوالات دریافت کئے تھے۔گورنمنٹ کو متوجہ کیا جائے میں سمجھتا ہوں ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ ایسے امور کے متعلق گورنمنٹ کو توجہ دلائے اور پورے زور سے توجہ دلائے۔کسی نے کہا تھا کہ مجسٹریٹ صاحب یہ الفاظ واپس لینے کیلئے تیار ہیں۔میرے پاس جب یہ پیغام پہنچا تو میں نے کہا ہمیں تو کسی سے دشمنی نہیں ہم تو ہر ایک کی عزت کرتے ہیں اگر گورنمنٹ کے آفیسر ز صیح طریق پر چلیں تو ہم انہیں اپنے سر آنکھوں پر بٹھانے کیلئے تیار ہیں اور اگر وہ یہ الفاظ واپس لے لیں تو ہمیں اس سے بڑی خوشی ہوگی اور ہم سمجھیں گے کہ معاملہ ختم ہو گیا۔مگر بعد میں میں نے سنا کہ انہوں نے الفاظ 6