انقلابِ حقیقی — Page 68
، انقلاب حقیقی رشتہ داروں کا معاملہ ہے وہ جانیں اور ہم جانیں یہ شخص بیچ میں کو دنے والا کون ہے۔چنانچہ آج بھی ناقص الخلقت لوگ انہی وہموں میں پڑے رہتے ہیں اور حکومتوں میں خلل ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔چنانچہ تحکیم نے تو غالباً پھانسی کی سزا اُڑا ہی دی ہے اور وہ محض اسی نقطہ نگاہ سے اُڑائی ہے جو میں نے بتایا ہے۔اگر وہ لوگ جن کے کہنے پر پھانسی کی سزا اُڑائی گئی میرے سامنے ہوتے تو میں انہیں کہتا کہ پھانسی کی سزا تم مٹاتے ہو تو ٹیکس کا طریق کیوں نہیں اُڑاتے وہ بھی تو دوسروں کے اموال پر نا جائز تصرف ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے خیالات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یورپ کے دماغوں میں تنزل پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے اور دراصل حکومتوں میں خلل ایسے ہی ناقص الخلقت لوگوں کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔صرف فرق یہ ہے کہ اب چونکہ تمدن کا خیال راسخ ہو گیا ہے اب یہ خیال تو نہیں آتا کہ حکومت سرے سے اُڑا دی جائے ہاں یہ خیال آتا ہے کہ شاید اس کی جگہ دوسری حکومت ہو تو وہ ہمارے حقوق کا زیادہ خیال رکھے اور اس وجہ سے تغییر کی کوششیں کی جاتی ہیں۔مگر وحشی قبائل کی اب بھی یہی حالت ہے کہ وہ حکومت اور تمدن کو ہر رنگ میں ناپسند کرتے ہیں اور اسے برداشت کرنا ان پر سخت گراں گزرتا ہے اور وہ دوسروں کی دخل اندازی پر سخت حیران ہوتے ہیں۔مثلاً ان کے ننگا پھر نے پر اگر حکومت معترض ہو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ننگے پھرتے ہیں تو کسی کا کیا حق ہے کہ وہ ہمیں کپڑے پہنائے ؟ ہمیں نگارہنے سے ہوا لگتی ہے اور مزا آتا ہے ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ہماری آزادی میں کوئی اور مداخلت کرے۔چنانچہ برطانوی تصرف کی ابتداء میں جب ننگے حبشی افریقہ کے شہروں میں داخل ہونے کے لئے آتے تو شہر کے دروازوں پر حکومت کی طرف سے افسر مقرر ہوتے تھے وہ 68