انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 59

۔انقلاب حقیقی میں محو ہو گیا ہوں اور :- اس حالت میں میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی۔پھر میں نے منشائے حق کے موافق اس کی ترتیب اور تفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں۔پھر میں نے آسمانِ دنیا کو پیدا کیا اور کہا إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ۔پھر میں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔پھر میری حالت کشف سے الہام کی طرف منتقل ہوگئی اور میری زبان پر جاری ہوا۔اَرَدْتُ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ آدَمَ ـ إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ 66 فِي أَحْسَنِ تَقْوِيم “ اس کشف سے بھی ظاہر ہے کہ ہر نبی کا ایک خاص مشن ہوتا ہے اور وہ ایک ایسے تغیر کے لئے آتا ہے جو سابق نظام کے مقابل پر نئی زمین اور نیا آسمان کہلانے کا مستحق ہوتا ہے ہاں جب نئی شریعت آئے تو وہ پہلی شریعت کے مقابل پر نئی زمین اور نیا آسمان کہلاتی ہے کیونکہ خَيْرٌ مِنْهَا ہوتی ہے اور اگر پہلی شریعت کے قیام ہی کے لئے کوئی نبی آئے تو اس کی بعثت کی غرض صرف یہ ہوتی ہے کہ اس کے زمانہ میں دنیا میں جو تہذیب اور تمدن قائم ہوتا ہے اسے تباہ کر کے پھر نئے سرے سے مذہب کی حقیقی حکومت دنیا میں قائم کرے اور انہی معنوں میں وہ ایک نیا آسمان اور نئی زمین بناتا ہے۔یعنی گودین جسے وہ قائم کرتا ہے پرانا ہوتا ہے مگر دنیا کی نگاہوں میں وہ نیا ہوتا ہے کیونکہ اس زمانہ میں وہ دنیا سے مٹ چکا ہوتا ہے اور اس کی جگہ کوئی اور تہذیب قائم ہو چکی ہوتی ہے۔کتاب البریۃ صفحہ ۸۶،۸۵۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۰۵،۱۰۴ 59