انقلابِ حقیقی — Page 48
۔انقلاب حقیقی الحَيَاةُ الدُّنْيَا وَيَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِيْنَ امَنُوْا وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ ط وَاللهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ یعنی جو لوگ کافر ہیں انہیں ورلی زندگی کے سامان بڑے خوبصورت نظر آتے ہیں۔اور وہ ان لوگوں سے جو مؤمن ہیں ٹھٹھے کرتے ہیں۔والذِينَ اتَّقَوْا فَوقَهُمْ يَوْمَ القِيمة ، حالانکہ قیامت کے دن مؤمن ان پر غالب ہوں گے۔وفوقهم يَومَ الْقِيمَةِ کا نظارہ اس قیامت کے دن کو بھی ہوگا جو مرنے کے بعد آنے والا ہے جبکہ کفار دوزخ میں جائیں گے اور مؤمن جنت میں مگر اس قیامت کے دن سے لوگ نصیحت نہیں حاصل کر سکتے اور اس آیت میں اس امر کو صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔پس اس آیت میں یومِ قیامت سے مراد وہ دن ہے جس دن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح ہوئی اور کفار کو شکست، جس دن دنیا نے یہ عجیب نظارہ دیکھا کہ وہ جو اکیلا تھا اور قوم کے ظلموں کا ستایا ہو ا وہ حاکم ہو گیا اور وہ جو ملک کے بادشاہ تھے محکوم بن گئے۔اقْتِرَابُ السَّاعَة کے معنی b ایک دوسری جگہ قرآن کریم میں رسول کریم ﷺ کے زمانہ کو السَّاعَةُ کے نام سے بھی یاد کیا گیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔اقتربتِ السَّاعَةُ وَالشَّقِّ الْقَمَرُ : قیامت آگئی اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ چاند پھٹ گیا ہے۔چاند کس طرح پھٹا ؟ میں اس موقع پر اس بحث میں نہیں پڑتا بلکہ میں آیت کے پہلے حصہ کی طرف توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ اس چاند پھٹنے کے واقعہ پر تیرہ سو سال گزر چکے البقرة: ۲۱۳ القمر : ۲ 48