انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 32

انقلاب حقیقی جس کی چوٹی آسمان تک پہنچے اور یہاں اپنا نام کریں ایسا نہ ہو کہ تمام روئے زمین پر پریشان ہو جائیں اور خداوند اس شہر اور بُرج کو جسے بنی آدم بناتے تھے دیکھنے اُترا۔اور خداوند نے کہا۔دیکھو! لوگ ایک ہی اور ان سب کی ایک ہی بولی ہے اب وے یہ کرنے لگے۔سوؤے جس کام کا ارادہ رکھیں گے اس سے نہ رک سکیں گے۔آؤ ہم اُتریں اور ان کی بولی میں اختلاف ڈالیں تا کہ وے ایک دوسرے کی بات نہ سمجھیں“ 1 اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ یہودی تاریخ کے مطابق بھی بابلی لوگوں کا بڑا کمال بلند عمارات بنانے میں تھا کیونکہ توریت کے اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ دنیا میں زبانوں کے اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ کسی وقت بابل کے لوگوں نے ایک بلند عمارت بنانی شروع کی تھی تا وہ ان کے لئے ایک نشان قرار پائے اور اس کی وجہ سے وہ پراگندگی سے بچ جائیں لیکن اللہ تعالیٰ پراگندگی چاہتا تھا اس لئے اُس نے اُن کو اس ارادہ سے باز رکھنے کیلئے ان کی زبانوں میں فرق ڈال دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ اس قوم میں سے اتحاد مٹ گیا اور اُن کی طاقت ٹوٹ گئی اور وہ اس عمارت کے بنانے میں ناکام رہے۔جو وجہ اس حوالہ میں دی گئی ہے وہ تو محض ایک کہانی ہے لیکن اس سے یہ تاریخی صداقت ضرور معلوم ہو جاتی ہے کہ اہل بابل اونچی عمارتیں بنانے میں ید طولیٰ رکھتے تھے اور ایسی بلند عمارتیں بناتے تھے جن کو دیکھ کر شبہ ہوتا تھا کہ گویا وہ آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔قرآن کریم میں بھی فرعون کی نسبت اس حوالہ کے مشابہ ایک بات بیان کی گئی ہے لیکن اس فرق کے ساتھ کہ بائبل میں تو خدا تعالیٰ کی طرف اس بیہودہ خیال کو منسوب کیا گیا ہے کہ کہیں انسان بلند عمارت بنا کر الوہیت کے مقام کو حاصل نہ کر لے اور قرآن کریم نے پیدائش باب ۱۱ آیت ۴ تاسے نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ۱۸۷۰ء 32