انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 31

انقلاب حقیقی دیکھ کر حیران ہوتے ہیں اور ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ انسان کے برابر برابر پتھر وہ اتنی بلندی پر اُٹھا کر کس طرح لے گئے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم فرعون کو دیکھو جوایسی مثلث عمارتیں بنا تا تھا جو بڑی بلند اور مضبوط ہوتی تھیں۔فرماتا ہے اس تہذیب کے حاملوں نے اپنی اپنی ترقی کے زمانہ میں دنیا میں بہت فساد پیدا کر دیا تھا اور اپنی طاقت کی وجہ سے سخت متکبر ہو گئے تھے لیکن دیکھو کہ ہم نے بھی ان سے کیسا سلوک کیا اور کس طرح انہیں برباد کر کے رکھ دیا۔غرض بابلی تحریک میں عمارتوں کی تعمیر پر اور رصد گاہوں کے بنانے پر زیادہ زور تھا۔عاد کے آثار میں ہر جگہ عظیم الشان عمارتیں نظر آتی ہیں۔پہلے یورپ کے لوگ عاد قوم کے وجود سے انکار کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ عاد نام کی کوئی قوم نہیں گزری مگر بیس سال سے جب سے کہ عاد کے آثار ملے ہیں وہ بھی ماننے لگ گئے ہیں کہ عاد نام کی ایک قوم ہوئی ہے بلکہ میں نے حال ہی میں ایک عیسائی مؤرخ کی کتاب پڑھی ہے جس میں وہ عاد کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ عاد کے متعلق مؤرخوں کی سینکڑوں صفحوں کی کتابیں اس سے زیادہ معلومات بیان نہیں کر سکیں جتنی معلومات قرآن کریم نے اپنے چند الفاظ میں بیان کر دی ہیں۔بابلی تحریک کا ذکر کتب مقدسہ میں بابل کی حکومت کا جو بیان تو رات میں آتا ہے اس سے بھی قرآنی بیان کی تصدیق ہوتی ہے چنانچہ بائبل میں آتا ہے۔اور انہوں نے کہا کہ آؤ ہم اپنے واسطے ایک شہر بناویں اور ایک بُرج تاريخ العرب قبل الاسلام مصنفہ حجرجی زیدان 31