انقلابِ حقیقی — Page 29
۔انقلاب حقیقی ایرانی تہذیب نے وسیع امپائر کی بنیاد رکھی جس کے ٹکڑے اپنے اپنے دائرے کے اندر آزاد تھے اور پھر ایک سردار کے ماتحت تھے۔تمام ایرانی حکومتوں میں یہ بات پائی جاتی ہے۔یہ حکومت در حکومت کا احساس ان کے اندر اہرمن اور یزدان کے خیال سے پیدا ہوا۔بابلی تحریک کیمسٹری اور ہیئت پر مبنی تھی اور اس وجہ سے تعمیر اور تنظیم میں اسے خاص شغف تھا اور گوی تحریک سب سے پرانی ہے اور اس کے آثار کم ملتے ہیں لیکن جتنے آثار بھی اس کے ملتے ہیں وہ حیرت انگیز ہیں۔بابلی تحریک کے آثار قرآن کریم میں قرآن کریم میں بھی اس تحریک کی بعض شاخوں کا ذکر ہے۔چنانچہ سورہ فجر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۔إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمُ يُخْلَقُ مِثْلُهَا فِي الْبَلَادِ۔وَثَمُودَ الَّذِينَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ وَفِرْعَوْنَ ذِى الْأَوْتَادِ۔الَّذِينَ طَغَوْا فِي الْبَلَادِ فَاكْثَرُوا فِيهَا الْفَسَادَتْ اس تہذیب کی بنیاد جن لوگوں نے رکھی تھی انہیں عاد کہتے ہیں۔عاد نام کی دو قومیں گذری ہیں۔عاد اول تہذیب بابلی کے بانی تھے اور دوسرے عاد بعد کے زمانہ میں اس تہذیب کے حاملوں میں سے ایک حامل تھے۔اس آیت میں انہی پہلے عاد یعنی بانیانِ تہذیب بابلی کا ذکر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عاد سے کیا سلوک کیا؟ وہ عاد جو عاد ارم کہلاتے ہیں اور بڑی بڑی اونچی عمارتیں بنانے والے تھے۔اتنی بڑی اونچی عمارتیں بناتے تھے کہ الَّتِي لَمُ يُخْلَقُ مِثْلُهَا فِي الْبَلَادِ ان کے بعد کی کوئی قوم بھی اس فن میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکی۔یعنی گو عام طور پر دنیا ترقی کرتی ہے لیکن باوجود الفجر: ۷ تا ۱۳ 29