انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 24

۔۔انقلاب حقیقی ہوگا۔اب اگر باپ کی وجہ سے جسم اعلیٰ بن سکتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ دماغ اعلیٰ نہ بنے ؟ پس اگر اچھے دماغ والا باپ ہوگا اور اچھے دماغ والی ماں ہوگی تو ان کا بیٹا بھی یقیناً اچھے دماغ والا ہوگا۔اس صورت میں اگر اس شخص سے جو نسل چلے وہ ہمیشہ اپنی قوم میں ہی شادیاں کرتی رہے تو ان کی قوم دوسری اقوام سے ضرور اعلیٰ ہوگی۔یہ آرین تہذیب جہاں بھی گئی ہے اس نے اپنی حکومت کو اسی بنیاد پر رکھا ہے یعنی اس نسلی امتیاز پر جو عقلی اور دماغی اور مذہبی دائروں پر حاوی تھا۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ ایک برہمن کا لڑ کا علم کے لحاظ سے ہمیشہ دوسروں پر فوقیت رکھے گا، ایک کھتری کا لڑکا سپہ گری کے لحاظ سے دوسروں پر فوقیت رکھے گا اور جب ایک قوم جسے نسلی امتیاز کی وجہ سے برتری حاصل ہو گی آپس ہی میں شادیاں کرے گی تو وہ دنیا سے کبھی مٹ نہیں سکے گی اس لئے ان کا مذہب بھی اسی تحریک کے ماتحت چلتا ہے مثلاً وید آئے تو انہوں نے یہ حکم دے دیا کہ اگر شو در وید کوئن بھی لے تو اس کے کان میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے۔یہ برہمن کا حق ہے کہ وہ وید سُنے یا کھتری اور ویش کا حق ہے کہ وید سنے۔شودر کا کیا حق ہے کہ وید سُنے گویا ان کے مذہب میں بھی یہی تحریک شامل ہوگئی۔پھر یہ جو وہ کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد انسان دنیا میں واپس آتا ہے اور مختلف جونوں میں ڈالا جاتا ہے جہاں تک میں نے غور کیا ہے یہ عقیدہ بھی اسی فلسفہ کا نتیجہ ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اعلیٰ نسل کے درجہ کے قیام کیلئے ضروری ہے کہ اعلیٰ روھیں اس میں شامل ہوتی رہیں اور اس کا طریق انہوں نے یہ تجویز کیا ہے کہ ہر قوم میں جو اعلیٰ اور نیک روحیں ہیں وہ مرنے کے بعد براہمن کے گھر جنم لیتی ہیں اور جو سپاہیانہ طاقت رکھتی ہیں وہ کھتریوں کے ہاں اور جو تاجرانہ لیاقت رکھتی ہیں وہ ولیش کے ہاں جنم لیتی ہیں اور جو خراب اور ناکارہ ہیں وہ شودروں کے ہاں جنم لیتی ہیں۔اس عقیدہ سے انہوں نے ادنی اقوام کی 24