انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 19

انقلاب حقیقی کا پُرزہ بولے گا۔گویا انہوں نے اپنی علمیت کی دلیل یہ دی کہ ہم خوب جانتی ہیں یہ ٹین ساجو لگا ہوا ہے یہ نہیں بول سکتا۔یہ محض اپنی واقف عورتوں کو آگے بٹھانے کیلئے بہانہ بنایا گیا ہے۔دوستوں کو چاہئے کہ وہ گھروں میں جا کر اپنی بیویوں کو سمجھا دیں کہ یہ ٹین کا پرزہ خوب بولا کرتا ہے۔کل مستورات نے خوب کشتی کی اور بعض تو پہرہ دار عورتوں کو گرا کر آگے آ گئیں اور کہا کہ ہم ایسے فریب میں نہیں آسکتیں۔وہ اُن کو سمجھا دیں کہ یہ ہمارا فریب نہیں بلکہ یورپ والوں کا کارآمد فریب ہے جس سے واقعہ میں آواز دُور دُور تک پہنچ جاتی ہے۔غرض اصلاح کے دو ذریعے ہیں صلح اور جنگ۔یعنی یا تو نئی تحریک کو پرانی تحریک کے ساتھ سموکر اور ملا کر ایک نیا وجود بنا دیا جاتا ہے اور دونوں تحریکیں ایک تحریک ہوکر رہ جاتی ہیں اور یا پھر نئی اور پرانی تحریک میں جنگ ہو کر نئی تحریک پرانی کو اُکھیڑ کر پھینک دیتی ہے اور اپنی حکومت قائم کر لیتی ہے۔اول قسم کی اصلاح ارتقاء کہلاتی ہے یعنی سہولت سے تغیر ہو جاتا ہے اور لوگوں کو محسوس بھی نہیں ہوتا۔مگر دوسری قسم کی تحریک جس میں لڑائی لڑنی پڑتی ہے اُسے عربی زبان میں انقلاب کہتے ہیں۔جیسے پنڈت جواہر لال صاحب نہرو کی مجالس میں نعرے لگائے جاتے ہیں کہ انقلاب زندہ باد “ یہ بھی وہی انقلاب ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ موجودہ گورنمنٹ سے کانگرس کو اتنا اختلاف ہے کہ وہ اسے توڑ کر کلی طور پر ایک نئی گورنمنٹ بنائے گی اور وہ کوئی درمیانی راستہ قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔گو عملی طور پر کانگرس سب کچھ مان گئی ہے اور کئی صوبوں میں اس نے وزارتیں بھی سنبھال لی ہیں۔اب صرف عادت کے طور پر انقلاب زندہ باد کے نعرے لگائے جاتے ہیں جیسے طوطے میاں کو میاں مٹھو کہنے کی عادت ہوتی ہے۔ورنہ کانگرس کیلئے انقلاب کا زمانہ ختم ہو چکا ہے۔19