انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 134

۔انقلاب حقیقی اور اسلامی حکومتیں اقطار عالم پر چھا گئیں تو یعجب الزراع دوسرے مذہبوں والے کہیں گے کہ اب اس کا مقابلہ نہیں ہو سکتا۔لیغیظ بِهِمُ الْكُفَّار مگر جو عید اور شدید دشمن ہونگے وہ تو اس انقلاب کو دیکھ کر مر ہی جائیں گے اور کہیں گے کہ اب ہم سے کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔پہلے جن لوگوں کا ذکر تھا وہ ایسے ہیں جن کی فطرت صحیحہ زندہ ہوگی۔وہ اس نظام کی برتری اور فوقیت کا اقرار کریں گے اور کہیں گے کہ کاش ہمیں بھی ایسے نظام میں شامل ہونے کا موقع ملتا۔مگر جو شدید دشمن ہونگے وہ ہاتھ کاٹنے لگیں گے اور کہیں گے کہ اب ہماری فتح کی کوئی صورت نہیں۔پس مسیح موعود علیہ السلام کے وقت میں پہلا دور تھا کہ پنیری نکل رہی تھی مگر اب وقت آگیا ہے کہ دوسرا دور شروع ہوتا کہ اُن لوگوں کی موجودگی میں جنہوں نے نور نبوت سے براہ راست حصہ لیا ہے یہ کام مکمل ہو جائے۔اگر یہ کام آج نہ ہوا تو پھر کبھی بھی نہیں ہو سکے گا۔تحریک جدید کا مقصد میں نے تحریک جدید کے پہلے دور میں اس کی طرف قدم اٹھایا تھا اور دوسرے دور کی بعض باتوں کو میں التواء میں ڈالتا گیا تھا اور میں نے کہا تھا کہ تم اپنے دلوں میں سوچو کہ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ عقائد کے میدان میں تو ہم نے دشمن کو شکست دی مگر عمل کے میدان میں ہم ابھی اسے شکست نہیں دے سکے۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگوں نے اپنے دلوں میں اس بات پر غور کیا ہوگا مگر میرے دل کی نیت اس وقت یہی تھی کہ میں تحریک جدید کے دوسرے دور کی بعض باتوں کو جلسہ سالانہ پر بیان کروں گا جب جماعت کا ایک حصہ میرےسامنے موجود ہوگا اور میں اُس سے دریافت کروں گا کہ آیا وہ ان باتوں پر عمل کرنے کیلئے تیار ہے یا نہیں؟ 134