انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 133

۔انقلاب حقیقی آئے گا جسے خدا تعالیٰ نے ازرہ کے لفظ میں بیان فرمایا ہے کہ اس وقت وہ پودا مضبوط ہو جائے گا اور اجرائے شریعت عملی طور پر کر دیا جائے گا، پھر تیسرا دور اس وقت آئے گا جب استغلظ کی پیشگوئی پوری ہوگی یعنی وہ کمزور پودا موٹا ہو جائے گا اور وہی تحریک جو پہلے معمولی نظر آتی تھی اور دنیا کے تھوڑے حصہ پر حاوی تھی تمام دنیا پر حاوی ہو جائے گی اور لوگ جُوں جُوں احمدی بنتے چلے جائیں گے وہ تعلیم بھی سب عالم میں پھیلتی چلی جائے گی۔گویا استغلظ میں انتشار في العالم کی پیشگوئی کی گئی ہے اور پھر چوتھا دور اس وقت آئے گا جب فاستوى على سُوقِہ کا نظارہ نظر آنے لگ جائے گا یعنی اسلامی بادشاہتیں قائم ہو جائیں گی اور وہ تھوڑے سے اسلامی مسائل جو خالص اسلامی حکومت سے تعلق رکھتے ہیں وہ بھی عملی رنگ میں جاری ہو جائیں گے اور تمام دُنیا کا ایک ہی تمدن ہوگا اور ایک ہی تہذیب یہ فَاسْتَوى عَلى سُوقِہ کے الفاظ ایسے ہی ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے کہ اُس نے عرش پر استوی کیا۔پھر فرماتا ہے کہ اسلامی تمدن جو احمدیت کے ذریعہ سے قائم کیا جائے گا اتنا شاندار اور اتنا اعلیٰ ہوگا کہ يُعْجِبُ الزراع دوسری قوموں اور تمدنوں کی آنکھیں کھول دے گا اور وہ حیران ہو ہو کر احمدیت کی کھیتی کو دیکھیں گے اور کہیں گے کہ یہ کھیتی تو بڑی اچھی ہے۔یہ وہی بات ہے جو قرآن کریم نے ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِین کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تعلیم کو عملی رنگ میں جب دنیا میں قائم کر دیا تو کئی دفعہ ایسا ہوا کہ کفار نے بھی اپنی مجالس میں کہا کہ ہے تو یہ جھوٹا مگر اس کی تعلیم بڑی اعلیٰ ہے اور ان کے دلوں میں بھی خواہش پیدا ہوئی کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔اسی طرح فرماتا ہے جب احمدیت کے ذریعہ سے اسلامی تمدن تمام دُنیا میں قائم کر دیا گیا الحجر: ٣ 133