انقلابِ حقیقی — Page 98
۔انقلاب حقیقی مجھ سے ڈرو۔اب سوال یہ ہے کہ کفار کیوں مایوس ہو گئے؟ اس کا جواب یہ دیا کہ (۱) دین مکمل کر دیا گیا ہے۔اکمال دین سے مراد شریعت کا نزول اور اس کا قیام ہے کیونکہ عمل میں آ جانے سے دین مکمل ہوتا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے طبی مدارس کے سب طالب علم سرجری کی کتابیں تو پڑھتے ہی ہیں مگر کتابیں پڑھنے سے انہیں آپریشن کرنا نہیں آتا بلکہ عمل کرنے سے آتا ہے۔ہمارے ملک میں ایک لطیفہ مشہور ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ جو گزشتہ صدی میں پنجاب کے بادشاہ تھے ان کے دربار میں ایک دفعہ دتی کا کوئی حکیم آیا۔جو گو علم طب خوب پڑھا ہوا تھا مگر اسے تجربہ ابھی حاصل نہیں تھا۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کا ایک وزیر ایک مسلمان تھا جو طبیب بھی تھا اس لئے علاوہ وزارت کے طب کا کام بھی اس سے لیا جاتا تھا بلکہ اس پر آشوب زمانہ میں اسی فن کی وجہ سے وہ بچا ہو ا تھا۔نو وار دطبیب نے وزیر سے اپنی سفارش کے لئے استدعا کی اور وزیر نے بوجہ اپنی شرافت کے اس سے انکار نہ کیا بلکہ مہاراجہ کی خدمت میں اسے پیش کر دیا۔مگر ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ حضور علم طب ان حکیم صاحب نے خوب حاصل کیا ہوا ہے اگر حضور نے پرورش فرمائی تو حضور کے طفیل انہیں تجربہ بھی حاصل ہو جائے گا۔مہاراجہ رنجیت سنگھ بہت ذہین آدمی تھا فورا حقیقت کو تاڑ گیا اور کہا کہ وزیر صاحب یہ دہلی سے آئے ہیں جو شاہی شہر ہے۔ان کی قدر کرنا ہم پر فرض ہے مگر کیا تجربہ کے لئے انہیں غریب رنجیت سنگھ کی جان ہی نظر آئی ہے؟ انہیں دس ہزار روپیہ انعام دے دو اور رخصت کردو کہ کہیں اور جا کر تجربہ کریں۔یہ ایک لطیفہ ہے مگر اس میں یہ سبق ہے کہ بغیر تجربہ میں آنے کے علم کسی کام کا نہیں ہوتا اور شریعت کا علم اس سے باہر نہیں ہے۔تو شریعت بھی جب تک عمل میں نہ آئے اس کی تفصیلات کا پتہ نہیں چلتا اور وہ مکمل نہیں ہوتی۔پس اتمام دین سے مراد یہ ہے کہ احکام دین نازل ہو جائیں اور پھر وہ عمل میں بھی آجائیں۔(۲) اسی طرح فرمایا کفار اس لئے مایوس ہو گئے ہیں کہ اتمام نعمت ہو 98