انقلابِ حقیقی — Page 5
۔انقلاب حقیقی (ادب کے الفاظ تو میں استعمال کر رہا ہوں انہوں نے تو یہ کہا تھا کہ اگر تمہارے محمد صاحب کو) کوئی کافر اور غدار کہہ دے تو تم اسے کیسا سمجھو گے؟ اور تمہارا دل اس سے دُکھے گا یا نہیں دُکھے گا؟ اسی طرح باوانا تک صاحب کو مسلمان کہنے سے سکھوں کا دل دُکھتا ہے۔یہ طریق کلام اتنا ناشائستہ ہے کہ میں حیران ہوں اگر حکومت اپنے مجسٹریٹوں کو اس قسم کی باتوں کا اختیار دیتی ہو اور پھر اس کا نام عدالت رکھتی ہو تو پھر دنیا میں کسی اور فسادی کی ضرورت ہی کیا ہے۔اس طرح تو خود گورنمنٹ فساد کا موجب کہلائے گی۔رسول کریمہ کی ہتک اور احرار کہا جاتا ہے بلکہ وہ احراری جو رسول کریم ﷺ کی محبت کے بلند بانگ دعاوی کرتے ہیں کہتے ہیں کہ اس نے اپنے فقرہ کو اگر سے مشروط کر دیا تھا یعنی اس نے یہ نہیں کہا تھا کہ محمد صاحب ایسے ہیں بلکہ اس نے کہا تھا کہ اگر محمد صاحب کو کوئی ایسا کہہ دے تو آپ کا دل دُکھے گا یا نہیں؟ لیکن کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ اگر کسی احراری لیڈر سے باتیں کرتے ہوئے کوئی شخص کہے کہ اگر تمہاری ماں کو کوئی بدکار اور کنجری کہے تو تمہارا دل اس سے دُکھے گا یا نہیں تو کیا وہ اسے پسند کریں گے؟ میں سمجھتا ہوں یقیناً وہ اسے پسند نہیں کریں گے۔پس اگر کا لفظ لگانے سے جُرم کی اہمیت کم نہیں ہو جاتی۔مباحثہ میں دشمن کا جواب دیتے وقت بات کرنے کے اصول اور ہوتے ہیں اور عدالت کی حیثیت اور ہوتی ہے اور عدالت کو اپنے وقار کو قائم رکھنا چاہئے اور ایسے الفاظ سے کلّی طور پر احتراز کرنا چاہئے۔ہندوؤں کا ایک روزانہ اخبار ” عام لاہور سے نکلا کرتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسے ہمیشہ منگوایا کرتے تھے اور آپ اس کے خریدار تھے۔ایک دفعہ اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا قرآن کریم کے متعلق ایک مضمون لکھا جس میں اگر“ کا لفظ 5