انقلابِ حقیقی — Page 89
انقلاب حقیقی گی ، روزہ بڑی اچھی چیز ہے لیکن اگر تم ظاہری روزہ کے ساتھ باطنی روزہ نہ رکھو گے تو یہ ظاہری روزہ لعنت بن جائے گا۔یہ وہی بات ہے جو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے کہ فويل للمصلين لا یعنی بعض نماز پڑھنے والے ایسے ہیں کہ نماز اُن کیلئے ویل اور لعنت بن جاتی ہے۔مسلمانوں کو رسول کریم ﷺ نے چونکہ پوری بات کھول کر بتا دی تھی اس وجہ سے انہیں دھوکا نہ لگا۔یہ کھول کر بتانا بھی عیسی علیہ السلام کی پیشگوئی کے ماتحت تھا کہ انہوں نے کہا تھا۔لیکن جب وہ یعنی رُوحِ حق آوے تو وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بتاوے گی اس لئے کہ وہ اپنی نہ کہے گی لیکن جو کچھ وہ سُنے گی سو کہے گی“۔ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بات کو واضح کر دینے کی وجہ سے باوجود اس کے کہ آپ نے بھی وہی بات کہی تھی جو مسیح علیہ السلام نے کہی تھی مسلمانوں کو دھوکا نہ لگا اور انہوں نے شریعت کو لعنت نہ قرار دیا۔بلکہ صرف اس عمل پر شریعت کو لعنت قرار دیا جس کے ساتھ دل کا تقدس اور اخلاص اور تقوی شامل نہ ہو۔مگر مسیحیوں نے مسیح کے کلام سے دھوکا کھایا اور جب ان کی روحانیت کمزور ہوئی انہوں نے اپنی کمزوری کے اثر کے ماتحت غلط تاویلوں کا راستہ اختیار کر لیا اور شریعت کو لعنت قرار دینے لگے اور یہ نہ خیال کیا کہ اگر وہ لعنت ہے تو حضرت عیسی علیہ السلام اور اُن کے حواری روزے کیوں رکھتے تھے، عبادتیں کیوں کرتے تھے، جھوٹ سے کیوں بیچتے تھے اور اسی طرح نیکی کے اور کام کیوں کرتے تھے۔ان امور سے صاف پتہ لگتا ہے کہ وہ ظاہری عبادت کو لعنت نہیں سمجھتے تھے بلکہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر ظاہر کے ساتھ باطن کی اصلاح نہ کی جائے تو وہ ظاہر لعنت بن جاتا ہے۔الماعون: ۵ یوحنا باب ۱۶ آیت ۱۳ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ۱۸۷۰ء 89