انقلابِ حقیقی — Page 88
انقلاب حقیقی زمانہ میں ایک ایسا نبی آیا جو نئی شریعت نہیں لایا بلکہ تورات کے بعض مضامین کو اس نے ↓ نمایاں طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا اس لئے حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آید نه بروح القدس کے موسوی دور میں شریعت کی تکمیل ہوئی اور اُس کے معارف نے بڑھتے بڑھتے ایک زبردست منظم قانون کی شکل اختیار کر لی جس کی مثال پہلے کبھی نہ ملتی تھی لیکن آہستہ آہستہ لوگوں کی نگاہ مغز سے ہٹ کر چھلکے کی طرف آگئی اور دوسری طرف انسانی ذہن اب اس حد تک ترقی کر چکا تھا کہ اسے تصوف کا مزید سبق دیا جانا ضروری تھا۔پس عیسی آئے تا کہ ایک طرف تو رات کے احکام کو پورا کریں جیسا کہ انہوں نے خود کہا ہے۔یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں، منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں“۔۲ اور دوسری طرف وہ لوگوں کو تو رات کے احکام کی حکمت سمجھا ئیں اور ان کی توجہ کو چھلکے سے ہٹا کر مغز کی طرف پھرائیں اور انہیں بتائیں کہ ظاہری شریعت صرف اس دنیا کی زندگی کو درست کرنے کیلئے اور باطنی شریعت کے قیام میں مدد دینے کیلئے ہے۔ورنہ اصل شئے صرف باطنی صفائی اور پاکیزگی اور تقدس ہے۔سو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام سے یہ کام لیا۔انہوں نے ایک طرف موسوی احکام کو دوبارہ اصل شکل میں قائم کیا اور دوسری طرف جو لوگ قشر کی اتباع کرنے والے تھے انہیں بتایا کہ اس ظاہر کا ایک باطن بھی ہے۔اگر اس کا خیال نہ رکھا جائے تو وہ ظاہر لعنت بن جاتا ہے۔نمازیں بڑی اچھی چیز ہیں لیکن اگر تم صرف ظاہری نماز ہی پڑھو گے باطنی نماز نہیں پڑھو گے تو وہ نماز لعنت بن جائے البقرة: ۲۵۴ متی باب ۵ آیت ۱۷ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲ء 88