انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 78

انقلاب حقیقی نے کہا کہ مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ ے جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اس نے خدا کو بھی پہچانا۔پس جس طرح فہم انسانی کا ارتقاء ابراہیمی دور میں ہوا اور مذہب کا فلسفہ اپنی شان دکھانے لگا اسی طرح تکمیل انسانیت بھی ابراہیم کے ذریعہ سے ہوئی یعنی انسان کو دوسری اشیاء سے ممتاز قرار دیا گیا اور انسانی قربانی کو منسوخ کیا گیا۔آپ سے پہلے انسانی زندگی کو کوئی قیمت نہیں دی جاتی تھی۔جو مر گیا مر گیا جو زندہ رہا زندہ رہا۔مگر ابراہیم کے زمانہ میں آدم اور دوسری مخلوقات میں فرق کر دیا گیا۔ابھی تک انسان اور جانور میں کوئی نمایاں فرق نہ سمجھا جاتا تھا۔خیال کیا جاتا تھا کہ دونوں کھاتے پیتے ہیں، دونوں بچے پیدا کرتے ہیں، دونوں چلتے پھرتے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ انسان کی دماغی ترقی نمایاں ہے اس وجہ سے اُس وقت تک قربانی کے لئے بعض دفعہ انسان بھی پیش کر دیا جاتا تھا کیونکہ جانوروں اور انسان میں کوئی اتنا نمایاں فرق نہ سمجھا جاتا تھا۔صرف یہ احساس تھا کہ انسان زیادہ قیمتی ہے اور جانور کم قیمتی مگر ابراہیم کے زمانہ میں جب لوگوں نے تو حید کو سمجھ لیا تو خدا نے کہا اب اسکی قربانی نہیں ہوسکتی کیونکہ اب یہ حیوان نہیں بلکہ پورا انسان بن گیا ہے اور اسکی زندگی اپنی ذات میں ایک مقصود قرار پا گئی ہے۔پس اس مقام پر انسان کو پہنچانے کی وجہ سے ابراہیم ابوالانبیاء کہلایا جس طرح آدم ابوالبشر کہلایا۔غرض حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں یوم البعث کا صحیح مفہوم انسان کے اندر پیدا کر دیا گیا اور اسے بتایا گیا کہ انسانی زندگی قرب الہی کے حصول کا ذریعہ ہے اس لئے سوائے ایسی مجبوری کے کہ اسکی قربانی کے بغیر چارہ نہ ہو اس کی فضول قربانی خود اُس مقصد کو تباہ کرنا ہے جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا۔گویا اب قربانی فلسفی اور عقلی ہوگئی ظاہری اور رسمی نہ رہی۔مثلاً لڑائیوں میں انسان قربان کر دیئے جائیں گے اور انہیں کہا موضوعات ملا علی قاری صفحہ ۲ے مطبع مجتبائی دہلی ۱۳۴۶ھ 78