انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 72

انقلاب حقیقی اسی قدر تھے جس قدر کہ نظام حکومت کے لئے ضروری ہوتے ہیں اس لئے آدم کے متعلق سارے قرآن کریم میں یہ کہیں ذکر نہیں آتا کہ وہ مسائل شرعیہ کی طرف لوگوں کو بلاتا تھا۔جہاں ذکر آتا ہے انہی چار چیزوں کا آتا ہے۔پس حضرت آدم نے صرف دنیا کو متمدن بنایا مگر یہ اُس وقت کے لئے ایک انقلاب تھا اور در حقیقت عظیم الشان انقلاب کہ دنیا کا موجودہ تمدن اسی کا نتیجہ ہے۔دور ثانی۔نوح کی تحریک اس کے بعد دوسرا دور آیا جب آہستہ آہستہ آدم کے متبع افراد نے ترقی کی اور انہوں نے دنیا میں کار ہائے نمایاں سرانجام دینے شروع کر دیئے اور انسانی تمدن ترقی کرنے لگا اور انسان کو تمدن سے جو وحشت ہوا کرتی تھی وہ جاتی رہی اور وہ اس بات کا عادی ہو گیا کہ انفرادی آزادی قربان کر کے مجموعی رنگ میں قوم کے فائدہ کے لئے قدم اُٹھائے۔اس کے نتیجہ میں مسابقت کا مادہ پیدا ہوا اور بعض لوگ نہایت ذہین ثابت ہوئے اور بعض گند ذہن نکلے۔کوئی اپنے کام میں نہایت ہی ہوشیار ثابت ہوا اور کوئی نکتا، کوئی اپنی لیاقت کی وجہ سے بہت آگے نکل گیا اور کوئی پیچھے رہ گیا کیونکہ مختلف انسانوں کے قویٰ میں تفاوت تو ہوتا ہی ہے مگر اس کا ظہور تمدن کی زندگی میں ہوتا ہے اور جس قدرتمدن پیچیدہ اور لطیف ہوتا جائے اسی قدر انسانی قابلیتوں کا تفاوت زیادہ سے زیادہ ظاہر ہونے لگتا ہے۔اگر دو متفاوت القویٰ انسانوں کو ادنی تمدن کے دائرہ میں کام پر لگایا جائے تو گو تفاوت ظاہر ہو گا مگر اس قدر نمایاں نہیں ہوگا جس قدر کہ اس وقت جبکہ انہیں کسی اعلیٰ تمدن کے ماتحت کام کرنا پڑے۔اعلیٰ تمدن میں تو بعض دفعہ اس قد ر فرق ظاہر ہوتا ہے کہ ایک اعلیٰ قابلیت کا آدمی کسی اور ہی جنس کا نظر آنے لگتا ہے۔چنانچہ ایسا ہی آدم کے دور کے آخر میں 72