انقلابِ حقیقی — Page 62
انقلاب حقیقی ہوتا ہے فرشتوں نے سمجھ لیا کہ ضرور کوئی فساد کرنے والے بھی ہونگے اس وجہ سے انہوں نے یہ سوال اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کر دیا کہ کیا فسادی لوگ بھی دنیا میں پیدا کئے جائیں گے کہ جن کو حدود کے اندر رکھنے کے لئے آدم کی پیدائش کی ضرورت ہے؟ بیشک خلیفہ کے لفظ سے یہ استنباط ہو سکتا ہے کہ کوئی مخلوق فساد کرنے والی بھی ہوگی لیکن اگر یہ آدم نسلِ انسانی کا بھی پہلا فرد تھا تو پھر بھی یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ فساد تو کبھی آئندہ زمانہ میں آدم کی اولاد نے کرنا تھا پھر آدم کو خلیفہ کس غرض اور کس کام کے لئے بنایا گیا تھا؟ اور اگر خلیفہ کا وجود بغیر فساد کے بھی ہو سکتا ہے تو پھر فرشتوں کے اعتراض کی بنیاد کیا تھی؟ غرض اس تشریح سے جو گو غیر معقول نہیں اس سوال کا جواب نہیں آتا کہ فرشتوں کو اس سوال کا خیال کیوں پیدا ہوا اور یہ معنی اس آیت کے معانی میں سے ایک معنی تو کہلا سکتے ہیں مگر مکمل معنی نہیں کہلا سکتے۔بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ فرشتوں نے کہا جو قومی تو نے آدم میں رکھے ہیں ان کے ماتحت ہمیں طبہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ ضرور فساد کرے گا اور لوگوں کے خون بہائے گا حالانکہ آدم اگر خدا تعالیٰ کا نبی تھا تو اس نے وہی کچھ کرنا تھا جو خدا تعالیٰ اُسے حکم دیتا اس کے خلاف عمل وہ کر ہی نہیں سکتا تھا۔اس آیت کے معنی کرتے ہوئے یہ امر یا درکھنا چاہئے کہ بادی النظر میں اس سے یہ استنباط ہوتا ہے کہ جس فعل کو فرشتے عجیب خیال کرتے ہیں وہ خود آدم کا فعل ہے نہ کسی دوسرے شخص کا کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ کیا تو اس دنیا میں ایسے وجود کو پیدا کرنے لگا ہے جو فساد کرے گا اور خون بہائے گا اور دوسرا امر الفاظ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فساد اور خونریزی خود خلافت کے مفہوم سے ہی ظاہر ہوتی ہے اور یہ کہ جس فساد کی طرف فرشتے اشارہ کرتے ہیں 9 62