انقلابِ حقیقی — Page 61
۔انقلاب حقیقی وقت انسان کی ایسی ہی حالت تھی جیسے بچہ کی۔اب اگر کوئی چار سالہ بچہ کو کہے کہ تو روزہ رکھ تو اُسے ہر شخص پاگل سمجھے گا اسی طرح ابتداء میں انسان کی ایسی حالت تھی کہ وہ ابھی اس مقام تک نہیں پہنچا تھا کہ وہ شریعت کا حامل ہوتا۔دور اول کی حقیقت پس ایک زمانہ انسان پر ایسا آیا ہے کہ جب وہ گو انسان ہی کہلاتا تھا مگر ابھی وہ حیات داگی پانے کا مستحق نہیں تھا۔جب اس حالت سے اس نے ترقی کی اور اس کا دماغ اس قابل ہو گیا کہ وہ قانونِ شریعت کا حامل ہو سکے تو پہلا قانون جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتر اوہ یہ تھا کہ مل کر رہو اور ایک افسر کے ماتحت اپنی زندگی بسر کرو۔گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلا قانون لانے والا سادہ عبادت الہی کے علاوہ صرف یہی پیغام لے کر آیا تھا کہ تم عائلی اور تمدنی زندگی اختیار کرو۔تمہارا ایک حاکم ہونا چاہئے، تمہیں اُس کی اطاعت کرنی چاہئے تم اپنے مقدمات اُس کے پاس لے جاؤ اُس سے اپنے جھگڑوں کا فیصلہ کراؤ اور ہر بات قانون کے ماتحت کرو اور وہ پہلا انسان جس نے یہ قانون قائم کیا اس کا نام آدم تھا۔اور جب ہم اس نقطہ نگاہ سے آدم کو دیکھیں تو وہ تمام اعتراضات حل ہو جاتے ہیں جو اس سے پہلے آدم کے واقعہ پر ہوا کرتے تھے۔مثلاً یہ جو آتا ہے کہ فرشتوں نے کہا۔اتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدّماء کہ کیا واب زمین میں ایک ایسا شخص کھڑا کرنے والا ہے جو فساد کرے گا اور لوگوں کا خون بہائے گا؟ اس پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ فرشتوں کو کیونکر پتہ لگا کہ آدم کے ذریعہ سے خون بہیں گے جبکہ آدم ابھی پیدا بھی نہ ہو اتھا؟ اس کے کئی جواب دیئے جاتے تھے مثلاً یہ کہ چونکہ حاکم فساد کو دور کرنے کے لئے 61