انقلابِ حقیقی — Page 57
انقلاب حقیقی صرف اسی امر کو دیکھا جائے کہ اچھے یا بُرے کا احساس انسانی نفس میں پایا جاتا ہے اور بعض حد بندیوں یا قیود کو وہ ضروری قرار دیتا ہے تو بھی اس امر کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ انسان کسی نہ کسی رنگ میں جزاء وسزا کے ساتھ وابستہ ہے جس سے وہ بچ نہیں سکتا۔اور یہ احساس اور اس کا طبعی باعث یوم القیامت اور بعث بعد الموت پر ایک زبردست شاہد ہے۔اگر کوئی آخری حساب و کتاب نہیں تو طبع انسانی میں انفعال اور کسی اچھی چیز کیلئے خواہ وہ کچھ ہی ہو کوشش کا احساس کیوں پایا جاتا ہے؟ نیز آیات مذکورہ بالا میں بعث بعد الموت کے ثبوت میں بعث دُنیوی کو پیش کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اسلام پر ایک زمانہ میں پھر موت آنے والی ہے جبکہ اسلام کی تعلیم تو زندہ ہوگی مگر مسلمان اسے چھوڑ بیٹھیں گے۔اُس زمانہ میں اللہ تعالیٰ ایک مامور اور خادم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے پھر اسے زندہ کرے گا اور یہ قیامت کا ایک زبر دست ثبوت ہوگا کیونکہ سوائے خدا کے کون تیرہ سو سال پہلے اسلام کی نشاۃ اولی کی اور پھر اس پر جمود کی حالت طاری ہو جانے کی اور پھر دوسری دفعہ اس زمانہ میں احیاء کی خبر دے سکتا ہے جبکہ چاند اور سورج کو ایک خاص مہینہ میں ایک مدعی کے زمانہ میں گرہن لگے گا اور دنیا ظاہری علوم سے پُر ہوگی اور دہریت کا غلبہ ہو گا؟ اور جب قرآن کریم کی بتائی ہوئی قیامت تیرہ سو سال بعد آ جائے گی تو ثابت ہو جائے گا کہ قرآن کا خدا عالم الغیب بھی ہے اور قادر بھی۔پھر اس عالم الغیب خدا کی اس خبر کو لوگ کس طرح جُھٹلا سکتے ہیں جو ما بعد الموت کے متعلق ہے اور اس قا در خدا کی قدرت کو دیکھ کر قیامت کے وجود کو کیونکر ناممکن قرار دے سکتے ہیں۔چنانچہ جب پہلی قیامت کا ظہور ہوگا سمجھدار انسان کہے گا کہ اب بھاگنے کی کونسی جگہ ہے یعنی اس محبت کو دیکھ کر کوئی عقلمند انسان ایک زبردست ہستی کا انکار نہیں کر سکے گا جس کے قبضہ میں سب کا رخانہ ، عالم ہے اور جسے طاقت ہے کہ جو چاہے کرے اور جو عالم الغیب ہے جس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں۔57