انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 56

انقلاب حقیقی ماً مور من اللہ کے لئے ظاہر نہیں ہوا اور وہ یہ ہے کہ اس کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں چاند کو گرہن کے ایام کی پہلی تاریخ میں اور سورج کو گرہن کے ایام کی درمیانی تاریخ میں گرہن لگے گا۔اس حدیث کے مضمون کی روشنی میں جب آیات مذکورہ بالا کو دیکھیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات میں مہدی مسعود کا ذکر ہے اور اسی کے زمانہ کو قیامت کا دن قرار دے کر قیامت کبری کے لئے یعنی جب مُردے جی اُٹھیں گے ایک دلیل اور نشان قرار دیا ہے۔قیامت کبری کے دونشان جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں قیامت کبری کیلئے دو نشان بتائے گئے ہیں۔ایک وہ یوم القیامۃ جس میں نظر تیز ہو جائے گی اور چاند اور سورج کو گرہن لگے گا اور دوسرا نفس لوامہ نفس لوامہ کی گواہی تو ہر زمانہ میں حاصل ہے اور ہر زمانہ کے لوگ اس سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں لیکن اس خاص یوم القیامۃ کی گواہی سے وہی لوگ فائدہ اُٹھا سکتے ہیں جو آخری زمانہ میں ہوں۔اس واسطے دونوں زمانوں کے لوگوں کے ایمان کی زیادتی کے لئے دونوں قسم کی دلیلیں دی گئیں۔بلکہ اگر گہرا غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورۃ ہے ہی زیادہ تر موجودہ زمانہ کے متعلق۔اور نفس لوامہ کی دلیل بھی زیادہ تر آخری زمانہ کے لوگوں ہی سے تعلق رکھتی ہے کیونکہ اسی زمانہ میں علم النفس نے خاص ترقی کی ہے اور خیر وشتر کے مسائل پر نہایت تفصیلی بحثیں انسانی دماغ کی بناوٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے ہوئی ہیں اور یہی زمانہ ہے جس میں یہ دلیل زیادہ کارآمد ہو سکتی ہے کہ انسانی دماغ میں ایک حسن ہے جو بعض امور کو بُرا اور بعض کو اچھا قرار دیتی ہے۔قطع نظر اس کے کہ کیا اچھا ہے اور کیا بُرا ہے اگر 56