انقلابِ حقیقی — Page 51
۔انقلاب حقیقی ہوتی اسی طرح روحانی انقلاب بغیر نبی کے نہیں ہو سکتا۔پس یہ کہنا درست اور ایک حقیقت ہے کہ اگر وہ نبی نہ ہوتا تو وہ نئے روحانی آسمان وزمین جو اس کے ذریعہ سے پیدا کئے گئے نہ پیدا کئے جاتے۔لَوْ لَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْأَفَلَاكَ کا الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی ہوا ہے اور آپ سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوبھی یہی الہام ہو چکا ہے۔اب اگر اس الہام میں زمین و آسمان سے مراد مادی نظام شمسی کو لیا جائے تو یہ عجیب بات ہوگی کہ پہلے خدا تعالیٰ ایک نبی کو کہتا ہے کہ اگر تو نہ ہوتا تو میں یہ زمین و آسمان نہ بناتا۔اور اس کے بعد ایک دوسرے نبی کو کہتا ہے کہ اگر تو نہ ہوتا تو میں زمین و آسمان کو نہ بنا تا پس یہ امر واضح ہے کہ اس آسمان و زمین سے مراد روحانی نظام ہے جو اس نبی کے ذریعہ سے دنیا میں قائم کیا جاتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہر وہ نبی جس کے ذریعہ ایسا انقلاب کیا گیا ہے اسے ایسا ہی الہام ہوا ہو گا۔ہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ سارے زمانوں اور سب انسانوں کے لئے مبعوث ہوئے ہیں اس لئے آپ کے لئے یہ الہام سب زمانہ کو مدنظر رکھ کر سمجھا جائے گا اور باقی نبیوں کے لئے مخصوص الزمان اور مخصوص المقام سمجھا جائے گا۔افلاک کے معنی اور انجیل زمین و آسمان کے یہ معنی جو میں نے کئے ہیں انجیل سے بھی ان معنوں کا ثبوت ملتا ہے۔متی باب ۵ آیت ۱۸ میں لکھا ہے۔تذکرہ صفحه ۶۱۲۔ایڈیشن چہارم موضوعات ملا علی قاری صفحه ۵۹ مطبع مجتبائی دہلی ۱۳۴۶ھ 51