انقلابِ حقیقی — Page 44
انقلاب حقیقی آئے۔یا بچہ ہو اور اس کا لباس ہو تو اچھا، لیکن قد بڑھ جانے کی وجہ سے اس کے قد پر پہلا لباس درست نہ آتا ہو اور نیا لباس تیار کروانا پڑے۔اسی طرح تعلیم یا تو اس لئے بدلی جاتی ہے کہ وہ خراب ہو جاتی ہے یا اس لئے بدلی جاتی ہے کہ انسانی حالت میں ایسا تغیر آ جاتا ہے کہ پہلی تعلیم اس کے مطابق نہیں رہتی اور اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتا ہے کہ اب اس کیلئے دوسری یہ تعلیم کی ضرورت ہے۔جو تعلیم کے خراب ہو جانے کی صورت ہے یہ بھی درحقیقت اسی وقت واقع ہوتی ہے جب وہ تعلیم نا قابل عمل ہو جائے ورنہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ اپنے دین کا خود محافظ ہوتا ہے۔ہاں اس تعلیم کی ضرورت کا زمانہ ختم ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ بندوں سے کہتا ہے کہ اب بیشک اس میں تغیر و تبدل کر لو مجھے پرواہ نہیں۔جیسے گھر میں بعض دفعہ کوئی خراب اور پھٹا پرانا کپڑا ہو اور بچہ اسے پھاڑے تو ہم پرواہ نہیں کرتے اسی طرح مذہب میں قطع و برید کی اجازت اللہ تعالیٰ اُسی وقت دیتا ہے جب زمانہ کو اس تعلیم کی ضرورت نہیں رہتی اور انسان کے حالات نئی تعلیم کا تقاضا کرتے ہیں۔پس اُس وقت اللہ تعالیٰ اس فرسودہ مذہب کی حفاظت چھوڑ دیتا ہے اور بندوں کو اجازت دے دیتا ہے کہ وہ اس میں تصرف کریں اور اس سے کھیلیں۔انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی تعلیم سے کھیل رہا ہے حالانکہ خدا اس تعلیم کو زمانہ کے مطابق حال نہ پا کر اسے بندوں کے حوالے کر چکا ہوتا ہے اور اپنی حفاظت کا ہاتھ اس سے اُٹھا چکا ہوتا ہے۔پس فرمایا کہ پیغام الہی کے متعلق دو ہی صورتیں ہیں: (۱) جب وہ نا قابل عمل ہو جاتا ہے تو ہم اس سے بہتر تعلیم لاتے ہیں۔بہتر کا لفظ اس لئے استعمال کیا کہ پہلی تعلیم نا قابل عمل ہو چکی ہوتی ہے اور اب اس سے بہتر کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر بہتر کی ضرورت نہ ہوتی تو پہلی تعلیم ہی کافی ہوتی۔اس حقیقت کے 44