انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 30

۔انقلاب حقیقی ترقی کے زمانہ قرآن کریم تک کوئی قوم فنِ عمارت میں عاد کے کمال تک نہیں پہنچ سکی۔وَثَمُودَ الَّذِيْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ پھر اسی عاد کی ایک دوسری شاخ شمور تھی جس نے سنگ تراشی میں کمال کیا تھا اور شہروں کے شہر پہاڑوں کی کھوہ میں بناتے چلے گئے تھے حتی کہ بعض جگہ انہوں نے پتھر کاٹ کاٹ کر عجیب وغریب محل بنائے ہیں۔وَفِرْعَوْنَ ذِي الْاَوتَادِ اور فرعونِ مصر بھی اسی تہذیب کا حامل تھا۔وہ بھی ذِی الْاَوْتَادِ تھا۔بعض نے اوتاد کے معنی خیموں کی میخیں کئے ہیں لیکن اس جگہ یہ معنی درست نہیں۔اس جگہ آؤ تا د سے مراد وہ بلند عمارتیں ہیں جو بلند و بالا ہوں اور پہاڑ کی طرح اونچی نکل جائیں۔عربی میں پہاڑوں کو بھی اَوْتَادُ الْأَرْضِ کہتے ہیں۔اور ناک کو بھی وَتَد کہتے ہیں کیونکہ وہ چہرہ کے باقی اعضاء سے اونچا نکلا ہوا ہوتا ہے۔یہ مصری عمارتوں کی خصوصیت ہے کہ وہ عمارتیں پہاڑوں کی طرح مثلث شکل کی بناتے ہیں اور رہائشی گنجائش کا خیال نہیں رکھتے بلکہ اونچائی کا خیال رکھتے ہیں۔پس ذِی الْاَوتَادِ سے مُرادنہایت بلند عمارتوں والے کے ہیں۔جس کسی کو مصر جانے کا موقع ملا ہو وہ جانتا ہے کہ اہرام مصری کس قدر اونچے ہیں۔دُور دُور سے لوگ انہیں دیکھنے آتے ہیں اور وہ حیران ہوتے ہیں کہ اتنی بلندی پر وہ لوگ پتھر کس طرح اٹھا کر لے گئے۔اہرام اتنے بلند ہیں کہ انسان کو ان پر چڑھتے ہوئے کافی دیر لگ جاتی ہے۔میں باوجود ارادہ اور خواہش کے ان میں سے کسی پر نہیں چڑھ سکا۔بلکہ ایک دوست ایک اہرام کے اوپر چڑھ گئے تو انہیں اوپر جاتے ہوئے اس قدر دیر ہوگئی کہ مجھے ڈر ہوا کہ ہم رات کو اندھیرا ہو جانے کے بعد وہاں سے گھر کی طرف روانہ ہو سکیں گے۔قطب صاحب کی لاٹ کی بلندی کو ان کی بلندی سے کوئی نسبت ہی نہیں۔یورپین لوگ بھی انہیں اقرب الموارد الجزء الثاني صفحه ۱۴۲۳۔مطبوعہ بیروت ۱۸۸۹ء 30