انقلابِ حقیقی — Page 25
انقلاب حقیقی بغاوت کے امکان کو دور کر دیا کیونکہ اگر شودروں کو یہ کہا جاتا کہ تم ہمیشہ کیلئے شو درہی رہوگے تو ممکن تھا کہ وہ بغاوت کرتے۔یا اگر کھتریوں کو کہا جاتا کہ تمہارا کام صرف جان دینا ہے تو وہ برہمن حکومت کے خلاف کھڑے ہو جاتے۔پس انہیں اس عقیدہ کے ذریعہ سے خاموش کرا دیا گیا تا کہ وہ لوگ برہمن فوقیت کو ٹھنڈے دل سے تسلیم کر لیں کیونکہ انہیں یقین دلا دیا گیا کہ در حقیقت برہمن یا کھتری یا ولیش یا شو در ایک نسل نہیں ہیں بلکہ یہ تو عہدے ہیں جو اچھی یا بُری روحوں کو ملتے ہیں۔اب جس طرح ایک جمعدار کو ایک رسالدار کے خلاف، ایک رسالدار کو ایک لفٹنٹ کے خلاف شکوہ نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اسے بوجہ لیاقت یہ عہدہ ملا ہے اور جب میں لیاقت دکھاؤں گا تو یہ عہدہ مجھے بھی مل جائے گا اسی طرح ایک شودر کو ولیش کے، ایک ولیش کو کھتری کے اور ایک کھتری کو ایک برہمن کے خلاف شکوہ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ جنم تو گزشتہ اعمال کے نتیجہ میں ملے ہیں۔اگر ایک شو در اچھے اعمال کرے گا تو اگلے جنم میں وہ برہمن کے گھر پیدا ہو جائے گا اور خراب برہمن شو در کے گھر پیدا ہوگا۔اس طرح تفوق کو قائم رکھتے ہوئے بھی آرین تہذیب کے بانیوں نے اس تفوق کے خلاف بغاوت کے امکانات کو مٹا دیا اور ایک خیالی اُمید دوسری قوموں کے دلوں میں ایسی پیدا کر دی کہ وہ اس کھلونے کے ساتھ کھیلنے میں مشغول رہے اور اپنے حقیقی در داور ڈکھ کو بالکل بھول گئے۔یہی وجہ ہے کہ باوجود انتہاء سے بڑھے ہوئے نسلی ظلم کے ہزاروں سال سے ادنی کہلانے والی اقوام اپنی حالت پر قانع ہیں کیونکہ تناسخ نے ہر شودر کی نگاہ میں اس کی نسلی تذلیل کا زمانہ صرف اس کی موجودہ جون کے زمانہ میں محدود کر دیا اور ہر شو در جس کے دل میں موجودہ نظام کے خلاف بغاوت کے خیالات اُٹھتے ہیں یہ خیال کر کے خاموش ہو جاتا ہے کہ میں اس جون میں اپنے گناہوں کی وجہ سے آیا ہوں ورنہ شاید میں بھی پہلے 25