انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 23

انقلاب حقیقی بیرونی حکومت سے آزاد کراویں۔لیکن ان کی جدوجہد اسی حد تک محدود ہے کہ انگلستان کے مغربی کی جگہ ہندوستان کا مغربی لے لے اس سے زیادہ اس جدو جہد میں کوئی مقصد نہیں۔مسٹر گاندھی نے کھڈ رکا لباس پہن کر اس امر کا اظہار کرنا چاہا ہے کہ گویا وہ اس تہذیب کے اثر سے آزاد ہونا چاہتے ہیں لیکن حقیقت سے واقف جانتے ہیں کہ ڈھانچہ وہی ہے صرف سکاٹ لینڈ کے ورسٹڈ (WORSTED) کی جگہ اسے کھڈ رکا لباس پہنا دیا گیا ہے۔یا بقول مسیح پرانی شراب نئے مٹکوں میں ڈال دی گئی ہے اس سے زیادہ کوئی تغییر نہیں ہوا۔اب میں ان پانچوں تحریکوں کی کسی قدر تفصیل بیان کرتا ہوں تا کہ آپ لوگ سمجھ جائیں کہ یہ پانچ دور تہذیب کے دنیا کیلئے کیا پیغام لائے تھے اور کیا مفید چیز انہوں نے دنیا کو دی تھی جس سے وہ سینکڑوں ہزاروں سال کی جدوجہد کے بعد بھی آزاد نہیں ہوسکی۔آرین تحریک کا پیغام جدید ، نسلی امتیاز یادرکھنا چاہئے کہ آرین تہذیب کی بنیادیو جينكس(EUGENICS) پر تھی یعنی ان کی ساری بنیاد اس امر پر تھی کہ سب انسان یکساں نہیں ہیں بلکہ انسانوں انسانوں میں فرق ہوتا ہے۔کوئی اعلیٰ ہوتا ہے تو کوئی ادنی۔جیسے کوئی امیر ہوتا ہے تو کوئی غریب، کوئی مضبوط ہوتا ہے تو کوئی کمزور کوئی اچھے دماغ کا کوئی بُرے دماغ کا اور یہ کہ اس فرق کو خاص حالات کے ماتحت پائیدار بنایا جا سکتا ہے۔اور دنیا کا فائدہ اسی میں ہے کہ انسانوں میں سے جو اعلیٰ ہوں انہیں آگے کیا جائے تاکہ نسلِ انسانی اعلیٰ کمالات تک پہنچ وہ کہتے ہیں کہ ایک مضبوط باپ کا بیٹا ضرور مضبوط ہوگا اور کمزور باپ کا بیٹا کمزور 23