انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 18

۔انقلاب حقیقی کہ لاحول سے شیطان بھاگ جاتا ہے؟ اُس نے کہا آتا ہے۔پھر اس نے پوچھا کہ اگر کوئی حدیث کا منکر ہوتو وہ کیسا ہے؟ وہ کہنے لگا کا فر۔اُس نے کہا۔اچھا سنو ! میں لَا حَولَ پڑھتا ہوں اور یہ کہہ کر لا حول پڑھا اور اس معترض مولوی سے کہا کہ اب بتاؤ کہ کیا شیطان یہ لا حَو لدوسری طرف پہنچارہا ہے؟ شیطان کو کہاں طاقت کہ وہ لا حول کو پہنچائے ، وہ تو لا حول سُنتے ہی بھاگ جاتا ہے۔یہ بات اُس معترض کی سمجھ میں بھی آگئی اور اُس نے لوگوں کو بھی سمجھا دیا کہ یہ شیطان نہیں ہے کوئی اور چیز ہے۔غرض کئی تحریکات دنیا میں پیدا ہوتی ہیں۔لوگ ان کی مخالفتیں کرتے ہیں مگر آہستہ آہستہ وہ دنیا میں قائم ہو جاتی ہیں اور پہلے نظام میں اپنے لئے بھی جگہ نکال لیتی ہیں لیکن بعض ایسی تحریکات ہوتی ہیں جو پہلے نظام کو گالیہ بدل دیتی ہیں اور وہ صلح کر کے پہلے نظام کا حصہ نہیں بنتیں بلکہ ایک نیا نظام قائم کرتی ہیں اور پہلے نظام یا نظاموں کو توڑ دیتی ہیں۔ان کے لئے لڑائیاں لڑی جاتی ہیں جنگیں کی جاتی ہیں (خواہ جسمانی رنگ میں خواہ رُوحانی رنگ میں ) اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی وجہ سے دنیا کا امن جاتارہا مگر آخر اس لڑائی اور جنگ کے بعد وہ دنیا میں قائم ہو جاتی ہیں اور ان کے ذریعہ سے دنیا میں پھر امن کا دور دورہ ہو جاتا ہے۔مکہ مکرمہ کے ٹیلیفون کے واقعہ کی مناسبت میں مجھے نواب اکبر یار جنگ صاحب بہادر نے بھی بتایا ہے کہ حیدر آباد کی مسجد میں لاؤڈ سپیکر لگایا گیا تو لوگوں نے کفر کا فتویٰ دے دیا۔ہمارے یہاں عورتوں کی جلسہ گاہ میں بھی گل لاؤڈ سپیکر پر تو ٹی لگ گیا تھا۔بعض عور تیں سٹیج کے قریب آنا چاہتی تھیں اس پر انہیں منظمات جلسہ نے بتایا کہ اب قریب آنے کی ضرورت نہیں یہ جو آلہ لگایا گیا ہے اس سے ہر جگہ آواز پہنچ جائے گی۔اس پر وہ کہنے لگیں سانوں تہاڈے فریب دا پتہ نہیں ؟ اسیں ایڈیاں ای بیوقوف ہاں؟ بھلا یہ ڈھو تو بولے گا؟ یعنی کیا ہمیں تمہارے فریب کا علم نہیں ہم اتنی بیوقوف نہیں کہ یہ خیال کر لیں کہ یہ ٹین 18