انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 153

۔انقلاب حقیقی طریق یہی ہے کہ جیسی کسی نے امانت رکھی ہو ویسی ہی وہ پڑی رہے اور جب امانت مانگنے والا آئے اسے فور دے دی جائے۔دہلی میں حکیم محمود خاں صاحب کا خاندان نہایت ہی امین خاندان مشہور تھا جب غدر ہوا ہے اس وقت لوگ ان کی ڈیوڑھی میں زیورات اور کپڑوں کی بندھی بندھائی گٹھڑیاں پھینکتے چلے جاتے تھے۔کیونکہ وہ مہاراجہ پٹیالہ کے طبیب شاہی تھے اور مہاراجہ پٹیالہ نے ان کے مکان کی حفاظت کے لئے خاص طور پر ایک گار د بھجوا دی تھی اور انگریزوں سے کہہ دیا تھا کہ یہ چونکہ میرے شاہی طبیب ہیں اس لئے انہیں کچھ نہ کہا جائے۔تو چونکہ اس وقت ان کا مکان محفوظ تھا اور دوسرے لوگوں کے مکان غیر محفوظ تھے اور پھر وہ نہایت ہی امین مشہور تھے، اس لئے لوگ بھاگتے ہوئے آتے اور زیورات اور پارچات کی گھڑیاں ان کی ڈیوڑھی میں پھینکتے چلے جاتے اور اس امر کی کوئی پرواہ نہ کرتے کہ ان زیوروں یا کپڑوں کا کیا بنے گا۔آخر انہی لوگوں میں سے جنہوں نے اس وقت گھڑیاں پھینکی تھیں بعض دس دس سال کے بعد آئے اور انہوں نے بجنسہ اپنی چیزیں ان سے لے لیں۔یہی نمونہ ہماری جماعت کے ہر فرد کو دکھانا چاہئے اور ہر احمدی کو امانت میں اتنا مشہور ہونا چاہئے کہ لوگ لاکھوں روپے اس کے پاس رکھنے میں بھی دریغ نہ کریں اور ایک احمدی کا نام سنتے ہی لوگ یہ سمجھ لیں کہ یہ ایسا شخص ہے کہ اس کے پاس وپیہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔۴ مخلوق خدا کی خدمت چوتھا امر جس کی طرف میں خاص توجہ دلانا چاہتا ہوں مخلوق خدا کی خدمت ہے۔تم کو چاہئے کہ اپنے ہاتھوں سے کام کرو اور خود محنت کر کے اپنے گاؤں وغیرہ کی صفائی کرو۔ہندوستانی شہروں کی سڑکیں اور گاؤں کی گلیاں بالعموم گندی رہتی ہیں، ہماری جماعت کا فرض 153