انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 135

انقلاب حقیقی سو آج میں اس کا اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے الْإِيْمَانُ بِضُرٍّ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً أَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلهُ إِلَّا اللَّهُ وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ کہ اے مسلمانو! تم بعض دفعہ لَا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ پڑھ کر کہہ دیتے ہو کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ ہم مومن ہیں۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ ہم مسلمان ہیں مگر فر مایا یہ غلط بالکل غلط اور قطعاً غلط ہے۔اوّل تو صرف لفظ لا اله الا اللہ کہنا کوئی چیز نہیں۔اور اگر ہو بھی تو یا درکھو کہ الْإِيْمَانُ بِضْعُ وَسَبْعُونَ شُعْبَةٌ - ایمان کے ستر سے زیادہ حصے ہیں جن پر عمل کرنا تمہارے لئے ضروری ہے۔یہاں بِضْعٌ وَسَبْعُونَ سے مراد کثرت ہے اور یہ عربی کا محاورہ ہے اردو میں بھی جب کسی کو یہ کہنا ہو کہ میں نے تجھے بارہا یہ بات کہی ہے تو کہتے ہیں میں نے تجھے سو دفعہ یہ کہا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ سو دفعہ کہا ہے بلکہ مطلب کثرت کا اظہار ہوتا ہے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایمان کے ستر سے بھی زیادہ محکمے اور ڈیپارٹمنٹ ہیں۔یعنی بہت سے اس کے شعبے ہیں۔أَفْضَلُهَا قَولُ لَا إِلهَ إِلَّا الله - ان سب میں افضل بات لا إِلهَ إِلَّا اللہ کہنا ہے۔مگر اس کے بعد اور پھر اور پھر اور اور پھر اور شعبہ ہائے ایمان چلتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ ایک ادنی بات شعبہ ہائے ایمان میں یہ بھی داخل ہے کہ اِمَاطَةُ الأذى عَنِ الطَّرِيقِ رستے میں کانٹے پڑے ہوں تو انہیں الگ کر دیا جائے ، کنکر پتھر ہوں تو انہیں ہٹا دیا جائے ، اسی طرح جو بھی تکلیف دینے والی چیز ہوا سے دور کر دیا جائے۔گویا جس کو لوگ ایمان کہتے ہیں اور جس پر خوشی سے پھولے نہیں سماتے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ کسی ایک چیز کا نام نہیں بلکہ سینکڑوں اعمال ہیں جن کے مجموعہ کا نام ایمان ہے اور جب تک ان اعمال کی چاروں دیواریں مکمل نہ کی جائیں ایمان کی عمارت پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتی۔ان اعمال میں سے مسلم کتاب الایمان باب بیان عدد شعب الایمان (الخ) 135