انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 130

۔انقلاب حقیقی انقلاب حقیقی کے قیام میں ہمارا کام پس جبکہ انقلاب پیدا کرنے کیلئے یعنی پرانے نظام کو مٹانے اور نئے نظام کو قائم کرنے کیلئے اور اس حد تک قائم کرنے کیلئے کہ نیا آسمان اور نئی زمین پیدا ہو جائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے ہیں تو سوال یہ ہے کہ ہم نے اس بارہ میں کیا کام کیا ہے؟ تم جانے دو معترضین کے سوالات کو ، آؤ ہم سب احمدی مل کر یہ بات سوچیں کہ کیا واقع میں اگر بیرونی دنیا سے کوئی شخص ہندوستان میں آ جائے اور اسے احمدی اور غیر احمدی کا کوئی فرق معلوم نہ ہو اور فرض کرو کہ وہ بہرہ بھی ہے اور لوگوں سے سن کر بھی معلوم نہ کر سکتا ہو کہ فلاں احمدی ہیں اور فلاں غیر احمدی اور فرض کرو کہ وہ گونگا بھی ہو اور خود بھی دریافت نہ کر سکتا ہو لیکن اس کی آنکھیں ہوں جن سے وہ دیکھے اور اس کا دماغ ہو جس سے وہ سمجھے تو کیا وہ ہم کو دیکھ کر کہہ سکتا ہے کہ ان لوگوں کا آسمان اور ان لوگوں کی زمین اور ہے اور دوسرے لوگوں کا آسمان اور ، اور دوسرے لوگوں کی زمین اور ہے؟ یا وہ کچھ بھی نہیں سمجھے گا اور وہ کہے گا کہ غیر احمدیوں میں سے بھی کچھ لوگ نمازیں پڑھتے ہیں اور کچھ نہیں پڑھتے اسی طرح احمدیوں میں سے بھی کچھ لوگ نمازیں پڑھتے ہیں اور کچھ نہیں پڑھتے ان میں بھی بعض کمزور اور بد اعمال ہیں اور اِن میں بھی بعض کمزور اور بداعمال ہیں اور اگر وہ یہی نتیجہ نکالے تو بتلاؤ وہ کب اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ جماعت احمدیہ کا آسمان نیا ہے اور جماعت احمدیہ کی زمین نئی ہے ؟ پس سوچو اور غور کرو کہ ہم نے اس وقت تک کیا کیا ہے؟ ہم نے کچھ مسئلے سمجھ لئے ہیں، کچھ چندے دے دیتے ہیں اور کچھ ذاتی اصلاح کر لیتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ غیر احمد یوں میں اور ہم میں اگر کوئی فرق نکل سکتا ہے تو یہ کہ غیر احمد یوں میں زیادہ لوگ جھوٹ بولنے والے ہوتے ہیں مگر ہم میں کم لوگ جھوٹ بولتے ہیں ، ان میں سے اکثر 130