انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 129

انقلاب حقیقی سُود لگے گا تو روپیہ لے کر یہ مجبور ہو جائے گا کہ سُود ادا کرے۔یا مثلاً ورثہ کے احکام ہیں اگر پنجاب کا ایک باپ کہتا ہے کہ میں اپنی جائداد اپنی اولاد میں شریعت کے مطابق تقسیم کروں گا اس پر جھٹ بیٹا کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے میں یہ تقسیم نہیں ہونے دوں گا یا بیوی اس کی مخالف ہو جاتی ہے اور کہتی ہے کہ میں یہ قسیم نہیں ہونے دوں گی، جس طرح عام رواج ہے اسی طرح تقسیم کرو تو باوجود خواہش کے وہ اس حکم پر عمل نہیں کر سکے گا کیونکہ قانون اس کے مخالفوں کے حق میں ہے۔اسی طرح کئی سیاسی احکام ہیں جو ایک کامل نظام کے مقتضی ہیں اور اگر نظام نہ ہو تو ان پر عمل نہیں ہو سکتا۔مثلاً شریعت نے کہا ہے کہ بھاؤ مقرر کئے جائیں اور اس اس رنگ میں مقرر کئے جائیں۔اب اگر کوئی نظام نہ ہو تو اکیلا انسان کہاں بھاؤ مقرر کر اسکتا ہے۔پس جب تک نظام نہ ہو جو دونوں فریق کو مجبور کرے صرف ایک فریق باوجود علم اور ارادہ کے اس پر عمل نہیں کر سکتا۔(۵) پھر نئی جماعت کے لئے یہ بھی مشکل ہوتی ہے کہ ابتدائی صحابہ ہی اصل تعلیم کو جاری کر سکتے ہیں۔اگر ان کے زمانہ میں عمل نہ ہو تو پھر کوئی صورت باقی نہیں رہتی اور لوگ کہہ دیتے ہیں کہ جب صحابہ نے جو اتنے بڑے بزرگ تھے یہ نظام جاری نہیں کیا تو ہم کیوں کریں؟ (1) چھٹی بات یہ ہے کہ جب تک اپنا نظام قائم نہ کیا جائے پر انا نظام مٹ ہی نہیں سکتا۔آخر جب تک ہم اپنے نظام کا کوئی اعلیٰ نمونہ نہ دکھا ئیں پرانی چیز کو لوگ کیوں چھوڑیں؟ وہ جب تک ہم اپنے نظام کا بہتر نمونہ ان کے سامنے پیش نہ کریں اس بات پر مجبور ہوتے ہیں کہ پرانے نظام کو ہی اختیار کئے رہیں پھر اس کے علاوہ ایک خطر ناک بات یہ ہے کہ خود اپنے آدمی اس کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں اس لئے بغیر نظام کے وہ مقصود پورا ہی نہیں ہو سکتا اور وہ انقلاب جو مطلوب ہے کبھی رونما ہی نہیں ہوسکتا۔129