انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 99

۔انقلاب حقیقی گیا اور اتمام نعمت اس طرح ہوتا ہے کہ فیوض جسمانی وروحانی کا کامل افاضہ ہو اور ہر دو انعامات حاصل ہو جائیں اور جب کسی شخص کو کسی کام کا نتیجہ مل جائے تو وہ اس کے سچا ہونے میں شک کر ہی نہیں سکتا۔اگر ایک کالج کی تعلیم کے بعد ڈگری مل جائے یا ایک محکمہ کی سروس کے بعد سر کار سے انعام مل جائے۔تو کون شک کر سکتا ہے کہ وہ کالج جھوٹا ہے یا وہ محکمہ فریب ہے۔اسی طرح جب کسی دین پر عمل کرنے کے نتیجہ میں جسمانی اور روحانی دونوں فیوض حاصل ہونے لگیں اور اس طرح اتمام نعمت انسان پر ہو جائے تو کون اس کی سچائی سے انکار کر سکتا ہے۔نعمت کیا ہے اب ہم قرآن کریم سے ہی دیکھتے ہیں کہ نعمت کیا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے۔وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيْكُمُ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُم مُّلُوكاً وَآتَاكُمْ مَّا لَمْ يُؤْتِ أَحَداً مِّنَ الْعَالَمِينَ یادكر وجب موسی نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم! خدا تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کرو جب اس نے تم پر کی کہ اس نے تم میں سے نبی بنائے اور پھر تمہیں بادشاہت بھی دی اور پھر تمہیں وہ تعلیم دی جو پہلے تمہیں معلوم نہ تھی اس سے معلوم ہوا کہ نعمت سے مراد اجرائے نبوت بادشاہت اور دوسرے مذاہب سے افضل تعلیم ہے کیونکہ جعل فِيكُمْ أَنْبِيَاء سے اجرائے نبوت کا ثبوت ملتا ہے۔جَعَلَكُمْ مُّلُوعًا سے بادشاہت کا اور واشكم ما لم يُوتِ احَدًا مِّن العلمین سے اس امر کا کہ ایسی تعلیم ملے جو دوسرے مذاہب سے افضل ہو اور انسان اس پر فخر کر سکے۔99