انقلابِ حقیقی — Page 87
انقلاب حقیقی ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كلَّمَ اللهُ مُوسَى تَكْلِيما لے کہ موسیٰ کے ساتھ اکثر بالمشافہ وحی ہوتی تھی۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ پہلوں سے بالمشافہ کلام نہ ہوتا تھا بلکہ یہ مطلب ہے کہ پہلے زیادہ تر رؤیا و کشوف پر مدار تھا اور اسی ذریعہ سے اللہ تعالیٰ غیب کی خبریں اپنے نبیوں پر ظاہر کیا کرتا تھا۔مگر موسیٰ کی شریعت کا اکثر کلام بالمشافہ ہوا اور رویا د کشوف کی کثرت کی جگہ لفظی کلام کی کثرت نے لے لی لیکن ابھی تک معنی محفوظ قرار دیئے جاتے تھے کلام محفوظ نہیں قرار دیا جاتا۔جیسے ہم زید سے جب بات کرتے ہیں تو لفظوں میں کرتے ہیں اور اس طرح اُسے ہماری بات کے سمجھنے میں بہت کم محبہ ہو سکتا ہے مگر ہم اپنے الفاظ اُسے یاد نہیں کراتے بلکہ جو مطلب اس کے دماغ میں آتا ہے اس کے مطابق وہ کام کرتا ہے لیکن اگر ہم اپنے الفاظ کی زیادہ احتیاط کرانا چاہیں تو پھر ہم لکھوا دیتے ہیں یہی فرق قرآنی وحی اور موسیٰ کی وحی میں ہے۔موسیٰ کے زمانہ میں ابھی یہ حکم نہیں تھا کہ جو الفاظ سُنو وہی لکھو۔بلکہ جو الفاظ ہوتے اُن کے مطابق ایک مفہوم لے کر کتاب میں درج کر دیا جاتا۔مگر قر آنی وحی کے نزول کے وقت اُس کی زبر، اُس کی زیر، اُس کی پیش اور اُس کی جزم تک وحی الہی کی ہدایت کے ماتحت ڈالی گئی۔عیسوی دور کا پیغام احیائے شریعتِ موسوی موسوی دور کے بعد اب عیسوی دور شروع ہوتا ہے اور عیسوی دور ہی وہ پہلا دور ہے جو تاریخی طور پر اس آیت کے دوسرے حصہ کے ماتحت آتا ہے کہ مَانَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا کہ ہمارے احکام جب لوگوں کے ذہنوں سے اُتر جاتے ہیں تو ہم ویسے ہی احکام پھر اُتار دیتے ہیں یعنی دوبارہ اُن کو زندہ کر دیتے ہیں۔اس النساء: ۱۶۵ 87