انقلابِ حقیقی — Page 43
۔انقلاب حقیقی تعالیٰ اسی پہلے نظام کو بچنسہ پھر دنیا میں قائم کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کو یہ دونوں قدرتیں حاصل ہیں۔تمہیں پھر فرماتا ہے الم تعلم ان الله له مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ کیا معلوم نہیں کہ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں؟ ہم ایک انقلاب عظیم کے پیدا کرنے کیلئے اور ایک نیا آسمان اور ایک نئی زمین پیدا کرنے کیلئے ایسا کرتے ہیں۔یہ ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے کفار کو اس امر کا تو غصہ نہ تھا کہ ان کے خیالات کے خلاف ایک خیال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرتے ہیں۔انہیں جس بات کا خطرہ تھا اور جس کا تصور کر کے بھی انہیں تکلیف محسوس ہوتی تھی وہ یہی تھی کہ کہیں قرآن کی حکومت قائم نہ ہو جائے۔پس فرمایا۔اَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ اے انکار کرنے والو! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ خدا زمین و آسمان کا بادشاہ ہے؟ پس جب اُس نے اس بادشاہت کو ایک نئے اصول پر قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو اس کے فیصلہ کے پورا ہونے کو کون روک سکتا ہے؟ مذہبی نظام کی مدت عمل غرض قرآن کریم نے مذاہب کے بارہ میں بھی یہ قاعدہ بتایا ہے کہ ہر مذہبی نظام جو قائم کیا جاتا ہے وہ کچھ عرصہ کے بعد یا تو نا قابل عمل ہو جاتا ہے یا لوگ اسے بھول جاتے ہیں۔نا قابل عمل وہ دو طرح ہوتا ہے یا لوگ اس میں ملاوٹ کر دیتے ہیں یا زمانہ کے مطابق اس کی تعلیم نہیں رہتی۔یعنی یا تو یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس تعلیم میں تصرف کر دیتے ہیں اور یا پھر تعلیم تو محفوظ ہوتی ہے مگر زمانہ چونکہ ترقی کر جاتا ہے اس لئے وہ قابل عمل نہیں رہتی۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کا لباس پھٹ جائے اور اسے نیا لباس سلوانے کی ضرورت پیش 43