انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 39

،انقلاب حقیقی اسی فلسفہ کے تابع چل رہے ہیں۔جب بھی وہ کوئی نئی بات سوچتے ہیں وہ اسی مغربی تہذیب کے تابع ہوتی ہے اور چونکہ مغربی تہذیب کی بنیا د مادیت پر ہے جس کا یہ اُصول ہے کہ مُنہ سے کچھ اور کہو اور عمل کچھ اور رکھو، اس لئے گاندھی جی کے پیر بھی منہ سے تو امن امن کہتے ہیں مگر اندر سے لڑائی کی تیاریاں جاری رکھتے ہیں۔اتباع منہ سے شور مچاتے ہیں کہ آہنسا قائم کرو، آہنسا قائم کرو مگر عملاً ہر اختلاف کے موقع پر بیسیوں مسلمانوں کو ذبح کرا دیتے ہیں کیونکہ یہ اصول صرف کہنے کیلئے ہیں عمل کرنے کیلئے نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جب مادیت کے اثر کے نیچے انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ اگلا جہان کوئی نہیں تو پھر اسے اس شخص کو تباہ کرنے سے کونسی چیز روک سکتی ہے جسے وہ اپنا دشمن سمجھ بیٹھتا ہے۔وہ تو ہر رنگ میں اپنے مد مقابل کو زک پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔پس کانگری گومنہ سے یہ کہتے جائیں کہ ہم گاندھی فلسفہ کے پیرو ہیں مگر حقیقتا ان کا عمل مغربی فلسفہ پر ہی ہے اور جب تک مادیت کا اثر ان کے دلوں پر سے دُور نہ ہوگا وہ یورپ کے واقعات کو ہندوستان کی سیج پرتمثیلی رنگ میں دکھاتے رہیں گے۔غرض ان پانچوں تحریکوں کی کامیابی کی اصل وجہ یہی ہے کہ ان کے پیچھے ایک فلسفہ تھا۔ان کے بانی، لوگوں کے مُلک پر ہی قبضہ نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے دل و دماغ کو بھی غلام بنا لیتے تھے جو غلامی کہ جسمانی غلامی کے دُور ہو جانے کے بعد بھی بعض دفعہ سینکڑوں ہزاروں سال تک جاری رہتی تھی۔مذہبی دنیا میں بھی حقیقی کامیابی انقلاب سے ہی ہوتی ہے مذہبی دنیا میں بھی یہی قانون جاری ہے۔اس میں بھی حقیقی کامیابی انقلاب کے ذریعہ سے اور انقلاب ہی کی وجہ سے ہوتی ہے۔اگر انقلاب نہ ہو تو مذہب کبھی کامیاب نہ ہو 39