انقلابِ حقیقی — Page 144
انقلاب حقیقی احمدی ہونے کے یہ معنی نہیں کہ تم نے لا اله الا اللہ کہا اور چھٹی ہوئی۔یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لائے اور معاملہ ختم ہو گیا بلکہ ایمان کی کمیل کیلئے سینکڑوں باتوں کی ضرورت ہے جو تمدن، معاشرت،اقتصاد اور سیاست و غیره سے تعلق رکھتی ہیں۔جب تک وہ تمام کڑیاں مضبوط نہ ہوں کوئی شخص حقیقی معنوں میں سومن نہیں کہلا سکتا اور یہ علماء کا کام ہے کہ وہ لوگوں کے خیالات کو بدلیں اور ان کو بتائیں کہ ان کے سامنے کتنا اہم کام ہے۔مگر ہمارے علماء کی یہ حالت ہے کہ وہ باہر جاتے ہیں تو صرف وفات مسیح اور ختم نبوت پر لیکچر دے کر آ جاتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ انہوں نے اپنے فرض کو ادا کر دیا۔گویا ان کی مثال بالکل اس شخص کی سی ہے جو ایک محل بنانے کیلئے نکلے مگر ایک اینٹ گھڑ کر واپس آ جائے اور سمجھ لے کہ اُس کا کام ختم ہو گیا۔پس یہ علماء کا کام ہے کہ وہ لوگوں کے اندر یہ احساس پیدا کریں کہ انہیں احیائے سنت اور احیائے شریعت کیلئے ایک موت قبول کرنی پڑے گی اور اس کے لئے انہیں چاہئے کہ وہ تیار ہو جائیں۔۲۔کامل اطاعت دوسرے اس کام کیلئے جماعت کے دلوں میں یہ عزم پیدا کرنا ضروری ہے کہ ہم پوری اطاعت کریں گے خواہ ہمیں کتنا ہی نقصان برداشت کرنا پڑے کیونکہ یہ چیزیں نظام ے تعلق رکھتی ہیں اور اگر ایک بھی اس نظام سے نکل جائے تو تمام کام درہم برہم ہو جاتا ہے۔مثلاً ہماری شریعت ایک حکم یہ دیتی ہے کہ فلاں فلاں سٹینڈرڈ (STANDARD) کی اگر کوئی چیز ہو تو فروخت کی جائے ، ناقص اور ادنی مال فروخت نہ کیا جائے۔اب اگر ہم اس حکم کی دُکانداروں سے تعمیل کرائیں اور جو اس حکم کو نہ مانے ، اس کے متعلق ہم یہ حکم دے دیں کہ جماعت اس سے سودا نہ خریدے تو ایسی حالت میں اگر بعض لوگ ایسے کھڑے ہو 144