انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 131

، انقلاب حقیقی تارک نماز ہوتے ہیں اور ہم میں سے اکثر نمازیں پڑھنے والے ہوتے ہیں لیکن ایک حصہ ہم میں بھی تارک الصلوۃ لوگوں کا ہوتا ہے۔پھر وہ تبلیغ نہیں کرتے اور ہم میں سے اکثر تبلیغ کرتے ہیں ، وہ قرآن بہت کم جانتے ہیں اور ہماری جماعت کے لوگ نسبتا زیادہ قرآن جانتے ہیں لیکن شکل وہی ہے طرز وہی ہے چیز وہی ہے پس آسمان کس طرح بدل گیا اور زمین کس طرح بدل گئی؟ بلکہ ہماری حالت تو یہ ہے کہ ابھی تک ہم پرانے نظام سے نفرت بھی پیدا نہیں کر سکے۔ابھی تک ہمارے بعض نوجوان مغربیت کے دلدادہ ہیں، وہ مغربی فیشن کی تقلید میں اسلامی تمدن اور اسلامی تہذیب کو فراموش کئے ہوئے ہیں اور بجائے اس کے کہ ہم دشمن کو مٹا دیتے، اس کی تہذیب کو پارہ پارہ کر دیتے اور اس کے تمدن کی بجائے اسلامی تمدن قائم کر دیتے ، اسی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ ہمارے فلاں آدمی کو جو دشمن چھین کر لے گیا ہے، اسے ہم واپس لائیں لیکن ہم جو نہی اسے واپس لاتے ہیں دشمن ہمارے دس آدمی اور چھین کر لے جاتا ہے اور ہماری تمام کوشش اور ہماری تمام سعی پھر اسی کام میں صرف ہو جاتی ہے کہ انہیں دشمن سے واپس لائیں۔پس بجائے دشمن کے تمدن کو مٹانے کے اپنے آدمیوں کو چھڑانے میں ہی ہم لگے رہتے ہیں۔پس ضرورت ہے کہ ہم اس نہایت ہی اہم امر کی طرف توجہ کریں اور دنیا کے تمدن اور دنیا کی تہذیب کو بدل کر اسلامی تمدن اور اسلامی تہذیب اس کی جگہ قائم کریں۔انقلاب حقیقی کے قیام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حصہ ممکن ہے کوئی کہے کہ آپ نے الہامات تو سنا دئیے اور قرآن کریم کی آیات سے بھی استدلال کر لیا مگر کیا آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے زیادہ الہامات سمجھتے ہیں یا ان سے زیادہ قرآن جانتے ہیں؟ اور اگر نہیں تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیوں 131