انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 119

انقلاب حقیقی سامنے ہے اس کو اور قرآن کریم کو آپس میں وہی نسبت حاصل ہے جو اعلیٰ اور لذیذ آم کو پانی میں بھگوئی ہوئی املی سے ہوتی ہے۔حالانکہ تمام حسن اسلام میں ہے، تمام خوبیاں اسلام میں ہیں اور یورپ نے اصولِ علم میں جو کچھ سیکھا ہے اسلام اور مسلمانوں کی خوشہ چینی کر کے سیکھا ہے مگر مسلمانوں کو چونکہ اس کا علم نہیں اس لئے وہ مغربیت کے دلدادہ ہو گئے ہیں۔مغربیت کے اُصول غرض اس زمانہ میں اسلام کی تعلیم بطور کل کے کہیں نہیں پائی جاتی ، صرف ٹکڑے ٹکڑے پائی جاتی ہے اور اصل اسلامی تعلیم کو در حقیقت مسلمان بھلا بیٹھے ہیں اور مغربیت ان پر غالب ہے جس کے بڑے اصول یہ ہیں:۔(۱) مادیت (۲) اس کا لازمی نتیجہ نیشنلزم۔(۳) اور تمام مذہبی اور اخلاقی مسائل کو نیشنلزم کے تابع کرنا۔ان امور نے اخلاق مذہب اور حقیقی قربانی اور دنیا کے امن کو بالکل برباد کر دیا ہے اور مذاہب کی شکل کو مسخ کر دیا ہے۔اب اگر یورپ کے لوگ کسی چیز کا نام مذہب رکھتے ہیں تو اس نقطہ نگاہ سے کہ وہ مذہب ان کی حکومت کو کتنا مضبوط کرتا ہے۔ایک ہندوستانی دماغ اس بات کو سمجھ بھی نہیں سکا مگر واقعہ یہی ہوتا ہے کہ جرمن میں بغاوت ہوتی ہے اور پادری جب دیکھتے ہیں کہ عیسائیت کی تعلیم انہیں اتنا مضبوط نہیں بناتی کہ وہ بغاوت کو کچل سکیں تو بڑے آرام سے انہیں مذہبی کتاب کے احکام میں تبدیلی کر کے ایک نیا فلسفہ پیش کر دیتے ہیں اور پھر چھوٹے بڑے سب یک زبان ہو کر کہتے ہیں کہ یہ ہمارا مذہب ہے۔ایک مسلمان اس بات کو سمجھ بھی نہیں سکتا کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ یہ تو ویسی ہی بات ہے جیسے 119