علمی دنیا میں انقلاب عظیم — Page 32
۳۲ " ماتحت اسلام نے جہاد بالسیف کی اجازت دی ہے۔جہاد بالسیف کے لیے دو شرائط ضروری ہیں۔ایک یہ کہ وہ با اختیار امیر کی قیادت میں ہو کسی دوسرے نظام قاہر و مسلط کے اندر رہتے ہوئے جہاں کسی یا اختیار امیر کا وجود نا ممکن ہے ، قتال کرنا بدامنی اور فساد ہے جو نہیں۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قتال کا اعلان ہجرت کے بعد فرمایا۔دوسرے یہ کہ جو لوگ جہاد بالسیف کے لیے اٹھیں وہ خود شائبہ فساد و ظلم سے پاک ہو چکے ہوں۔کوئی با اختیار امیر چونکہ ہندوستان میں موجود نہیں ہے اس وجہ سے یہاں جہاد بالسیف روا نہیں۔“ " در ساله" ترجمان القرآن ص ۱ رمضان و شوال ۱۳۶۴ هجری دار الاسلام جمال پور پٹھان کوٹ) - مولانا محمد میر پوری صاحب انگلستان : " برطانیہ کو دار حرب کہنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کیونکہ یہاں اس وقت تک مسلم ملکوں سے بھی زیادہ امن و امان ہے اور لوگ اسی بناء پر یہاں سے ہجرت کرنے کیلئے تیار نظر نہیں آتے۔۔۔۔کچھ عرصہ پہلے سعودی عرب کے علماء کی سپریم کونسل کے سامنے مغربی ملکوں کے دارالحرب