انفاق فی سبیل اللہ

by Other Authors

Page 30 of 45

انفاق فی سبیل اللہ — Page 30

انفاق في سبيل الله رضامندی سے زیور بیچ کر فوری طور پر مطلوبہ رقم لا کر حضور کی خدمت میں پیش کر دی۔چند روز بعد حضرت منشی اروڑے خان صاحب ملنے آئے اور حضور نے کپورتھلہ جماعت کا شکر یہ ادا کیا کہ آپ لوگوں نے بہت بر وقت مدد کی۔اس پر یہ راز کھلا کہ منشی ظفر احمد صاحب نے تو جماعت کے کسی دوست سے اس کا ذکر تک نہیں کیا۔کتنی جانثاری اور کتنی خاکساری اور کتنی ہے نفسی ہے اس واقعہ میں ! روایت میں آتا ہے کہ حضرت منشی اروڑے خان صاحب کو مالی خدمت کے اس نادر موقع سے محرومی کا اس قدر شدید قلق تھا کہ آپ کافی عرصہ تک حضرت منشی ظفر احمد صاحب سے ناراض رہے۔کیا شان ہے اس ناراضگی کی۔وجہ صرف یہ تھی کہ سارا ثواب آپ نے ہی لے لیا اور ہمیں اس ثواب میں حصہ دار نہ بنایا ! ☆☆☆ (اصحاب احمد جلد 6 صفحہ 72) حضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ کے واقعہ سے جو ابھی آپ نے پڑھا ، دور آخرین کے حضرت میاں شادی خان صاحب کی یاد آ جاتی ہے۔سیالکوٹ کے لکڑی فروش، بہت متوکل انسان تھے۔تنگدست تھے لیکن دل کے بادشاہ۔اس فدائی انسان کا نمونہ یہ تھا کہ انہوں نے ایک موقعہ پر اپنے گھر کا سارا ساز وسامان فروخت کر کے ڈیڑھ سو روپیہ کے بعد مزید دوسو روپے حضور کی خدمت میں پیش کر دیئے۔اُس زمانہ کے لحاظ سے یہ بہت بڑی قربانی تھی۔حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے ایک مجلس میں اس پر اظہارِ خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا کہ میاں شادی خان نے تو اپنا سب کچھ پیش کر دیا۔اور 30