انفاق فی سبیل اللہ

by Other Authors

Page 32 of 45

انفاق فی سبیل اللہ — Page 32

انفاق في سبيل الله راستہ میں اللہ تعالیٰ نے دس روپے بھیج دیئے۔واپس آکر فرمایا: ”لو میں تجارت کر آیا ہوں۔اب سب چیزیں منگوالو۔اللہ کی راہ میں مال دینے سے گھٹتا نہیں بڑھتا ہے“ ( انعامات خداوند کریم صفحہ 221 222 تصنیف حضرت صاحبزادہ پیر افتخار احمد صاحب لدھیانوی) دین کی راہ میں مالی قربانی کی ایک عظیم اور شاندار مثال حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے صحابی حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی ہے۔لندن مشن میں سن ساٹھ کی دہائی میں یہ تجویز چلی کی جماعت احمدیہ برطانیہ کے مرکز میں موجود دو عمارتوں کو ( جو کافی پرانی ہو چکی تھیں ) گرا کر ایک بڑا کمپلیکس بنایا جائے جس میں ایک بڑا ہال، دفاتر ، دو بڑے رہائشی مکان اور ایک چھوٹا ر ہائشی فلیٹ ہو۔اس تعمیراتی منصوبہ کے لئے جماعت کے پاس اس وقت مطلوبہ ایک لاکھ پاؤنڈ کی رقم موجود نہیں تھی۔جماعتی ضروریات کے لئے بینک سے سود پر رقم لینا بھی جماعت کا طریق نہیں۔بہت سوچ بچار اور کوشش کے بعد جب کوئی صورت نہ بن سکی تو حضرت چوہدری صاحب سے درخواست کی گئی کہ کیا آپ یہ رقم مہیا فرما سکتے ہیں جو بعد ازاں آپ کو قسط وار واپس کر دی جائے گی۔آپ نے اس پر رضامندی کا اظہار فرمایا۔قرآنی تعلیم کے مطابق اس غرض سے ایک معاہدہ تجویز کیا گیا کہ حضرت چوہدری صاحب جماعت کو ایک لاکھ پاؤنڈ ادا کریں گے اور جماعت ایک وقت مقررہ کے اندر اس کی واپسی کی ذمہ دار ہوگی۔ایک شام معاہدہ کی مجوزہ تحریر چوہدری صاحب کو دی گئی۔انہوں نے فرمایا کہ میں بغور مطالعہ کرنے کے بعد دستخط کر کے کل دے دوں گا۔32