انفاق فی سبیل اللہ — Page 31
وو انفاق في سبيل الله در حقیقت وہ کام کیا جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔“ (بحوالہ مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 315) میاں شادی خان صاحب نے سنا تو سیدھے گھر گئے۔ہر طرف نظر دوڑائی۔سارا گھر خالی ہو چکا تھا صرف چند چار پائیاں باقی تھیں۔فوری طور پر ان سب کو بھی فروخت کر ڈالا اور ساری رقم لا کر حضور کے قدموں میں ڈال دی اور حضور کے منہ سے نکلی ہوئی بات لفظاً لفظاً پوری کردی! اور پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس فدائی خادم کو کس طرح نوازا۔ان کی وفات ہوئی تو ان کی آخری آرام گاہ بہشتی مقبرہ میں ایسی جگہ بنی جو حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے مزار مبارک سے چند گز کے فاصلہ پرتھی اور بعد ازاں مقدس چار دیواری کے اندر آگئی ! ☆☆☆ کی توفیق کسی انسان کو تب ہی ملتی ہے جب اسے تو کل علی اللہ کی نعمت نصیب ہو۔اس تعلق میں حضرت صوفی احمد جان صاحب لدھیانوی کا خوبصورت نمونہ یا در رکھنے کے لائق ہے۔آپ کے صاحبزادے حضرت صاحبزادہ پیر افتخار احمد صاحب بیان کر تے ہیں: ”ہمارے گھر میں خرچ نہ تھا۔میرے والد صاحب نے میری والدہ سے پوچھا : آٹا ہے؟ کہا نہیں۔مال ہے؟ جواب نفی میں ملا۔ایندھن ہے؟ وہی جواب تھا۔جیب میں ہاتھ ڈالا۔صرف دو روپے تھے۔فرمانے لگے: اس میں تو اتنی چیزیں پوری نہیں ہو سکتیں۔اچھا میں ان دورو پوں سے تجارت کرتا ہوں۔وہ دوروپے کسی غریب کو دے کر خود نماز پڑھنے چلے گئے۔31