امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ

by Other Authors

Page 5 of 14

امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ — Page 5

4 3 بچو! حضرت امام ابو حنیفہ کا اصل نام نعمان تھا۔آپ کا قد درمیانہ اور چہرہ خوبصورت لیا کہ اب میں دین کا علم حاصل کروں گا۔تھا۔آپ کے دادا کا نام زوتی اور والد کا نام ثابت تھا۔آپ کا خاندان ایران کا ایک مشہور بچو ! ولید کے انتقال کے بعد حکومت سلیمان بن عبد الملک کے حصے میں آئی جو ولید کا سگا اور باعزت خاندان تھا۔جب ایران میں اسلام پھیلنا شروع ہوا تو آپ کے دادا ز ولی نے بھائی تھا۔وہ بہت ہی نیک اور علم سے محبت رکھنے والا انسان تھا۔اس کا سب سے بڑا اسلام قبول کر لیا۔گھر اور خاندان والوں نے ناراضگی کا اظہار کیا تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کارنامہ یہ ہے کہ اس نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو اپنا مشیر خاص بنایا۔پھر باوجود اس کے عرب تشریف لے آئے۔اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حکومت کا زمانہ تھا۔آپ کے کہ اس کے اپنے بھائی اور بیٹے موجود تھے اس نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو ولی عہد منتخب دا دا کوفہ میں ٹھہر گئے۔یہیں پر حضرت امام ابو حنیفہ کے والد ثابت پیدا ہوئے جنہیں حضرت کیا۔سلیمان بن عبد الملک کی حکومت کے زمانہ میں لوگوں کی توجہ مذہبی اور علمی گفتگو کی جانب امام ابو حنیفہ کے دادا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لے گئے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ ہوئی۔امام ابوحنیفہ کے دل میں بھی خالص دینی علم حاصل کرنے کا شوق پیدا ہو چکا تھا۔بحث نے انہیں پیار کیا اور ان کے لیے دعا بھی کی۔آپ کے والد تجارت کیا کرتے تھے۔و مباحثہ سے آپ کی طبیعت بیزار ہو چکی تھی۔اس وقت آپ کی عمر 17 سال تھی۔آپ اپنے والد کی طرح تجارت کیا کرتے۔اپنی دیانتداری کی وجہ سے آپ نے تجارت میں بہت ترقی حضرت امام ابوحنیفہ کی پیدائش کے وقت ان کے والد کی عمر چالیس سال تھی۔حضرت امام ابو حنیفہ کے بچپن کے زمانہ میں عرب کے سیاسی حالات بہت خراب تھے۔عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو عراق کا گورنر مقرر کیا۔حجاج بن یوسف بہت حاصل کی۔بچو! ایک دن کسی تجارتی کام کی غرض سے آپ بازار جانے کے لیے گھر سے نکلے۔ظالم گورنر تھا۔عبدالملک بن مروان کے بیٹے ولید کے عہدِ حکومت میں 95ھ میں اس کا راستہ میں امام شعمی کا مکان تھا۔آپ کوفہ کے ایک بہت بڑے امام تھے۔امام شعمی نے ابو حنیفہ کو دیکھا تو اپنے پاس بلایا اور پوچھا۔کہاں جا رہے ہو؟ انتقال ہوا۔ایک سال کے بعد ولید کا بھی انتقال ہو گیا۔ہمارے پیارے بزرگ امام ابوحنیفہ کا تمام بچپن ایسی حالت میں گذرا کہ ملک کے آپ نے جواب دیا کہ میں تجارتی کام سے بازار ایک سوداگر کے پاس جارہا ہوں۔سیاسی حالات بہت خراب تھے۔امن و امان نہیں تھا۔قرآن کریم حفظ کر لینے کے بعد ابھی امام شعمی نے پھر پوچھا کہ میرا مطلب ہے کہ تم کس سے پڑھتے ہو؟ آپ نے جواب دیا۔دین کا علم سیکھ رہے تھے اور علمی بحثیں کرتے تھے۔ایک دن کیا ہوا کہ حجاج بن یوسف کا زمانہ کسی سے بھی نہیں پڑھتا۔اس پر امام شعمی نے فرمایا: تھا، امام صاحب بحث میں مصروف تھے کہ ایک شخص نے آپ سے خالص دینی فرائض کے بارے میں ایک مسئلہ پوچھا۔اب بچو! آپ نے دینی علوم تو حاصل کیسے ہی نہیں تھے اس لیے اس کو کوئی جواب نہیں دے سکے۔وہ شخص کہنے لگا آپ بحثیں تو بہت لمبی لمبی کرتے ہیں مگر فضول گفتگو با لکل نہیں کرتے تھے۔اگر کوئی سوال کرتا تو نہایت ادب اور احترام کے ساتھ ایک دینی فریضہ تک کا آپ کو پتہ نہیں۔امام صاحب یہ سن کر بہت شرمندہ ہوئے اور ارادہ کر اسے جواب دیتے۔یہی وجہ تھی کہ جو کوئی بھی آپ کو دیکھتا وہ تاجر کی بجائے آپ کو طالب علم دو تمہیں چاہیے کہ عالم لوگوں کے ساتھ بیٹھا کر واور علم حاصل کیا کرو۔“ بچو! اصل میں بات یہ تھی کہ حضرت امام ابوحنیفہ شکل سے تاجر لگتے ہی نہ تھے۔آپ