امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ

by Other Authors

Page 4 of 14

امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ — Page 4

2 1 بسم اللہ الرحمن الرحیم امام اعظم حضرت ابوحنیفہ امام اعظم ابوحنیفہ کی زندگی کے حالات اور ان کے کارناموں اور ان کی شخصیت کے بارے میں پیاری پیاری باتیں بتاتی ہوں:۔بچو! کوفہ ایک بہت ہی پیارا شہر ہے۔پتہ ہے! جب عرب کے مسلمان بہت زیادہ ترقی مسلمان حاکم ہارون الرشید عباسی کے دو بیٹے تھے۔اس نے اپنے دونوں بیٹوں کو کر گئے اور یہاں کی آبادی میں اضافہ ہونے لگا تو حضرت عمر فاروق نے حضرت سعد بن ابی ایک بزرگ استاد کے پاس پڑھنے کے لیے بٹھایا۔ایک دن حاکم کے دل میں خیال آیا کہ وقاص کو ایک خط لکھا کہ مسلمانوں کے لیے ایک شہر بساؤ۔حضرت سعد بن ابی وقاص مجھے استاد صاحب کے پاس جا کر اپنے بیٹوں کی پڑھائی کے بارے میں معلوم کرنا چاہیے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے اور کسریٰ کی زبر دست حکومت کو حاکم استاد صاحب کی ملاقات کے لیے گیا۔جب استاد صاحب حاکم کے استقبال کے لیے بھی آپ ہی کے ہاتھوں شکست ہوئی۔آپ نے مسلمانوں کا شہر بسانے کے لیے کوفہ کی اُٹھنے لگے تو دونوں شہزادے دوڑ کر اُٹھے اور اپنے استاد کی جوتی اس کے پاؤں کے آگے زمین کو پسند کیا۔17ھ میں اس شہر کی بنیاد رکھی گئی۔بہت سادہ اور معمولی قسم کے مکانات رکھنے میں پہل کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ایک شہزادے کی خواہش تھی کہ پہلے میں جوتی بنائے گئے۔عرب کے مختلف قبیلے اس شہر میں آکر آباد ہونے لگے۔تھوڑے ہی دنوں میں رکھوں اور دوسرے شہزادے کی خواہش تھی کہ یہ کام پہلے میں کروں۔حاکم نے جب استاد اس شہر نے بہت مقبولیت حاصل کر لی۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس شہر کو دارالخلافہ قرار دیا۔اس شہر میں جن بزرگوں نے سکونت اختیار کی ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام کا یہ منظر دیکھا۔تو اس نے استاد صاحب سے کہا کہ: آپ جیسا آدمی مر نہیں سکتا پیارے بچو! اس چھوٹی سی کہانی سے تم نے کیا سبق سیکھا ؟ یہی نا کہ ہمیں اپنے بزرگوں اور استادوں کا احترام اور ان کی عزت کرنی چاہیے۔بچو ! سچی بات تو یہ ہے کہ دنیا میں کوئی بھی قوم اس وقت ہی زندہ قوم کہلاسکتی ہے جب کے ساتھ غزوہ بدر میں شامل ہونے والے صحابہ بھی تھے۔بچو! ان بزرگوں کی وجہ سے کوفہ نے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی طرح ”دارالعلم ، یعنی علم کے گھر کی حیثیت اختیار کی۔اسی علم کے گھر یعنی کوفہ میں ہمارے پیارے بزرگ حضرت امام ابوحنیفہ 80 ھ میں اس قوم کے بچوں اور نو جوانوں میں یہ خواہش پیدا ہو کہ جو بڑے بڑے اور اچھے اچھے کام پیدا ہوئے۔80 ھ عبد الملک بن مروان کا عہدِ حکومت تھا۔یہ زمانہ قرونِ اولیٰ (ابتدائی ہمارے بزرگوں نے کیسے ہیں وہی کام بلکہ ان سے بڑھ کر کام کرنے کی ہم کوشش زمانہ ) کہلا تا ہے۔کریں۔جب تمہارے دل میں اپنے بزرگوں جیسا بننے کی خواہش پیدا ہوگی تو یقینا تم ان کی زندگی کے حالات اور ان کے کارناموں کے بارے میں بھی جاننا چاہو گے۔آوا آج میں تمہیں اسلامی تاریخ کے ایک بہت بڑے بزرگ اور عالم دین میں کچھ صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے۔بچو! یہ تو تم جانتے ہو کہ قرونِ اولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کا زمانہ تھا۔ہمارے پیارے امام ابوحنیفہ کتنے خوش قسمت تھے کہ آپ نے اس مبارک زمانہ کو پایا جس